عمران خان کے شانہ بشانہ

عمران خان کے شانہ بشانہ

پاکستان تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جو پورے پاکستان٫ کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتی ہے –
عمران خان کی سیاست موروثی نہیں بلکہ صحیح معنوں میں جمہوری اور جدوجہد پر مبنی ہے – پیپلز پارٹی اور نون لیگ – بھٹو اور شریف خاندان کے باہر لیڈر شپ کا سوچ بھی نہیں سکتے

آج انشاء اللہ شمالی پنجاب کے عہدے داران کی حلف برداری کی تقریب لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقد کی جائیگی – نوجوان جو اس قوم کے معمار ہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے – اور اپنے لیڈر عمران خان کے شانہ بشانہ پاکستان کے لیے محنت کرنے کا عہد کریں گے

بطور وزیراعظم خان صاحب کی کامیابی اور اپنی پارٹی میں آنےوالےوقت کیلیئے نوجوان نظریاتی اور سیاسی مضبوط قیادت کی تشکیل ہی نظریے اور جمہوریت کی جیت ہے.
جو دوسری روایتی سیاسی پارٹیوں میں نہیں جہاں موروثیت کا راج ہے.

اس میں کوئی شک نہیں کہ خان صاحب نے اپنی پارٹی اوراِس ملک کیلیئےایک لمبی جدوجہدکی ہےجواپنی مثال آپ ہے.
بطورPTIسپورٹرخواہش ہےکہ خان صاحب کانظریہ اورمحنت کی لگن اگلی نوجوان نسل میں منتقل ہوجو اِس پارٹی کو نظریاتی اورسیاسی لحاظ سےاورمضبوط کرے.
آنےوالےوقت میں یہی نوجوان قیادت کریں.

پاکستان میں جمہوریت نہیں ھے اور پاکستان میں کوئ بھی پارٹی جمہوری۔ نہیں ھے ان سب پارٹیز کی بنیاد دیکھیں تو ان کے بنانے والے اور ان کو سپورٹ کہیں اور سے ھے پاکستان میں سول ڈکٹیٹرشپ ھے جس نے نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑا ھے جب کہ جمہوری نظام سے اس کا دور دور تک کوئ تعلق نہیں ھے

یہ عمران خان ہی ہے جنہوں نے ان کرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن عوام کے سامنے لے کر آئے ۔ نہیں تو 70 سالوں سے یہ پاکستان کو کھا رہے تھے ۔

ایسے انسان کو کون شکست دے سکتا ہے
جس کا ہر خطاب اسلام کی سربلندی، اللہ کی وحدانیت سے لیکر نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عشق پر ختم ہوتا ہے
ہم آخری دم تک خان کا ساتھ دیں گے
انشاءاللہ

عوام کو اب سمجھ جانا چاہئے کہ #بےروزگار_سیاستدان صرف اپنے زاتی مقاصد کیلئے ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک مشکلات میں ہے لیکن کیا آپ کبھی مشکلات کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے گھر کو آگ لگا دیں گے؟ نہیں! ہمیں متحد ہو کر مشکلات سے لڑنا اور جیتنا ہے انشاء اللہ

ایک طرف عظیم کپتان کے عظیم خواب جس کے حصول کے لئے وہ کوشاں ہے اور دوسری طرف وہ #بےروزگار_سیاستدان ہیں جنکا کل وژن اپنی جائیدادیں بنانے اور اس ملک کو نوچنے تک محدود ہے

خان صاحب نے سارے بیروزگار سیاستدان ایک جگہ اکٹھے کر دیے ہیں ۔ جو ہر روز کوئی نہ کوئی فضولیات کرتے رہتے ہیں – مولانا سیاست کی طوائف ہیں وہ چہرہ اور جنس نہیں صرف پیسہ، مفاد اور کُرسی دیکھتے ہیں

کہتے ہیں بارہ برس بعد تو ” رُوڑی ” کی بھی سنی جاتی ہے اور وہ کھاد بن کر فائدہ دینا شروع ہوجاتی ہے۔

یہاں 32 برس ہوگئے، ایک نسل مر کھپ گئی، دوسری نسل جوان ہو کر بڑھاپے میں داخل ہوگئی،

تیسری نسل شباب کے مراحل طے کرگئی

 

 

Please follow and like us:

Be the first to comment on "عمران خان کے شانہ بشانہ"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


RSS
Follow by Email