Categories
Social

خواتین اور پاکستانی درندے

گذشتہ دنوں اسلام آباد کے معروف بینک میں بینک مینجر کی جانب سے اسی ادارے کی خاتون ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ویڈیو میں بینک مینجر نے اپنے ٹیبل پر کھڑی خاتونکے ساتھ انتہائی قابل اعتراض چھیڑ خانی کی اور اسکی وڈیو وائرل ہو گئاور بلکل بھی

حیرانگی نا ہوئ جب اس مینیجر کا تعلق بھی پی ٹی آئ سے ہی نکلا کیوںکہ اس طرح کی زیادہ تر حرامزدگیوں کا تعلق اس جماعت سے ہی نکلتا کیوںکہ اس جماعت کے لیڈران بھی ایسی ہی حرکتوں کے لیے مشہور ہیں ملزم کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔اور متعلقہ بینک نے اسے نوکری سے فارغ کر دیا مگر

جیسے موٹر وے انسیڈنٹ ہوا اسی طرح سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس خاتون کو ہی موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ جاری ہے۔اس خاتون کو خاموش رہنے پر بھی تنقید کا سامنا ہے ۔اس واقعے کو دیکھنے والے کسی شخص نے ویڈیو بنا کر وائرل کردی تو اس شخص کو گرفتار کرلیا گیا’ مگر کتنی ہی ایسی اور خواتین

ہونگی جو اس عورت کی طرح اپنے ساتھ ہونے والے اس رویے پرخاموش رہتی ہیں’ اور ایسی درندگی کو برداشت کرتی رہتی ہیں۔ایسے روزانہ ہزاروں واقعات ہوتے ہیں’ مگر خواتین معاشرے کے تندوتیز سوالات کا سامنا نا کرپانے کی وجہ سے لب سی لیتی ہیں۔خواتین ہی کیا یہاں ایسے حرامزادے خوں آشام بھیڑیے بستے

ہیں جو کہ معصوم بچوں تک کو نہیں بخشتے کشمور کا واقعہ آپکے سامنے ہے اور کئ افراد جلد ہی خاتون کو مورد الزام ٹھرانا شروع کر دیں گے کہ یہی اس قوم کا مزاج ہےایسی صورت حال میں خواتین کیا کریں ؟ شور مچائیں تو اپنا تماشہ بنتا ہے۔پولیس کے پاس جائیں تو عمر شیخ جیسے افسران کا پہلا سوال ہی

یہی ہوتا ہے کہ آپ گھر سے نکلی ہی کیوں ۔لڑکیاں گھر میں آکر بتائیں کہ ہمیں راستے میں کوئی شخص چھیڑتا ہے تو گھر والوں کا پہلا کام لڑکی کا سکول کالج جانا بند کر دینا ہوتا ہے۔ہراسمنٹ اور زیادتی کے جو واقعات رپورٹ ہوتے ہیں وہ ہونے والے واقعات کا دسواں حصہ بھی نہیں روزانہ کتنے ہی سکول،

کالج، یونیورسٹیز اور کام کرنے والے دفاتر میں خواتین کوایسے درندوں کاسامنا کرنا پڑتا ہوگا’ مگر اپنی رسوائی کا ڈر انہیں چپ رہنے پرمجبورکرتا ہے’اور وہ درندےاس خاموشی پر مزید چوڑے ہوتے ہیں۔آخر ہمارا معاشرہ اپنے اندرتھوڑی سی برداشت پیدا کرکے’ ایسے ظلم و ستم کی شکار خواتین سے نفرت،

حقارت اورشکوک و شبہات کی بجائے ہمدردی کا اظہارکیوں نہیں کرتا؟اگر ایسے واقعات کی شکار خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو بتانے اور پھراس درندےکوکیفر کردار تک پہنچانے میں ہم بحثیت معاشرہ مثبت کردارادا کریں تو ایسے رویے پر خواتین خاموش نا رہیں۔ہر ہونےوالا واقعہ رپورٹ ہوایسے

گھناونے جرائم میں ملوث کئی معززین کھل کر بے نقاب ہوں۔ایسی حرکات کرتے وقت انہیں اتنا تو ضرور علم ہو کہ اس کے بعد معاشرے میں میرا عزت کے ساتھ رہنا محال ہوگا۔مگر ہماری غیرت صرف عورت تک محدود رہ جاتی ہے ۔مرد کو اس گناہ میں لتھڑا ہونے کے باوجود بھی گندا نہیں سمجھا جاتا۔یہ سراسر

ناانصافی اور زیادتی ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکتاتے ہوئے عورت ہزار بار سوچتی ہے ۔اگر وہ اس زہر کے پیالے کو پی بھی لے تو وہاں موجود لوگوں کا ایسی خواتین سے جو رویہ ہوتا ہے اس سے ایسے لگتا ہے جیسے یہ مظلوم کی بجائے خود مجرم ہے۔ایک مرد کے خلاف ایسی شکایت

لےکر دوسرے مرد کے پاس جانے سے عورت ڈرتی ہے ۔پچھلے دنوں لاہور کی ایک لڑکی نے خودکشی کرلی۔ وجہ یہ تھی کہ کسی لڑکے کی جانب سے اس کی بیہودہ تصاویر تیار کروا کر مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی تھیں ۔اس لڑکی نے ایف آئی اے لاہور سے کاروائی کے لیے پورا ایک سال ذلالت برداشت کی’ مگر

کوئی کاروائی نا ہوئی’ تو اس نے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی جب اس طرح کی ٹریٹمنٹ مظلوم کو ملے گی جب اسے بات سننے سے پہلے ہی عجیب نظروں سے یا مجرم بنا دیا جائے گا تو پھر یے اسی طرح خاموش رہنے ہی میں عافیت سمجھیں گی جو سراسر اس معاشرے کی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Exit mobile version