سنی راجہ لاڑکانہ سے

سنی راجہ لاڑکانہ سے

سنی راجہ’ دنیا سے بے خبر خود میں گم۔ لاڑکانہ سے اس کے عزیز پاگل پن کی وجہ سے اسے فاؤنٹین ہاوس لاہور چھوڑ گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہندو ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ زندگی کے سفر میں شاید وہ تنہا رہ گیا ‘ اداس اور دلگرفتہ ۔

اللہ پاک مسیحایی کی توفیق بھی کسی کسی کو دیتا ھے.. صاحب ثروت سے زیادہ اللہ کے نزدیک صاحب احساس ہوتا ھے.. کمال درجہ شفقت کا اجر حوض کوثر پر ملے گا آپ کو انشا اللہ… دین و دنیا دونوں میں عافیت نصیب ہو آپ کو.. آمین

اس وقت یہ ایک انسان ھے، ایک جیتا جاگتا انسان۔ اسے ہمارے پیار اور خلوص کی ضرورت ھے۔ امجد صاحب، اللہ تبارک و تعالٰی آپ کی عمر دراز کرے تاکہ آپ انسانیت کی ایسے ہی خدمت کرتے رہیں آمین۔

کاش ہم “مُحسن انسانیت صلعم” کی اُسوۂ حسنہ سے “اُٹھک بیٹھک” کے ساتھ “انسانیت” پہ زیادہ توجہ دیں تو یہ دُنیا اپنے لئے ہی نہیں دوسروں کیلئے بھی جنت بن سکتی ہے

یہ بس اللہ کا بندہ ہے اور ہمارا امتحان۔ ایسے بے خود لوگوں کی خدمت ہی اصل مسیحائی ہے

سر! اصل میں تو وہ تنہا رہ گئے جن کے حصے میں انکا خیال رکھ کر پتہ نہیں کتنی نعمتوں اور اجر نے آنا تھا, پر وہ نہ کر سکے انکی خدمت.

ہندو مسلمان ہو نہ ہو ، جنتی ضرور ہے – بیماری میں مسلمانی اور غیرمسلمانی کا کیا فرق؟ – خدا یہ وقت کسی پر نہ لائے

ایسے بہت سے لوگ ہمارے آس پاس علاج ، توّجہ اور دیکھ بھال کے منتظر ہیں۔ کیا اس مسئلے کا کوئی حل موجود ہے؟ یا یہ لوگ فقط معاشرے کی بےحسی کی نظر ہو کر سڑکوں پر مرجانے کے لیے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین – آپ کی مسکراہٹ اور مدد اسکے سارے دکھ دور کر دے گی – شکر ہے انسانیت زندہ رہ گئی

Please follow and like us:

Be the first to comment on "سنی راجہ لاڑکانہ سے"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


RSS
Follow by Email