Categories
Social

Pakistani Girls in Hostels : Drugs Parties and Dating

معاشرہ ترازو تصور کر لیں
امیر اور غریب ترازو کے دو پلڑے ہیں۔امیر کی ضروریات زندگی سے زائد مال کو غریب کے پلڑے میں ڈال کر ضروریات زندگی مہیا کرنا پلڑے کو برابر کرنا ہے۔
معاشرے کے ترازو کا یہ توازن قسطاس المستقیم ہے۔اور ہموار و متوازن معاشرہ صراط المستقیم

ہاسٹل جا کر لڑکا یا لڑکی اپنے والدین کی نگرانی سے محروم ہو جاتے ہیں
کم عقلی میں جیسی بھی صحبت میسر آتی ہے وہ اسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں
کئی ہاسٹلز میں پراسیکیوٹرز بھی ہوتی ہیں جو خود کو سٹوڈنٹ یا جاب ہالڈر شو کروا کر پلان کے تحت بچیوں کو نشے اور غلط کاموں پر لگوا دیتی ہیں

اس طرح کی تصویریں اور میسجز ان لڑکیوں کے لئے بہت مشکل بن جاتے ہیں جو بڑےدل سے تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں گھر والوں کی مخالفت کے باوجود۔ ماحول کو بہتر بنائیے نہ کہ تعلیم کو روکئے

جہاں تک بات تصاویر کی وہ شیئر نہیں کرنی چاہیئے اس سے برائی زیادہ پیھلتی ہے۔ لوگوں میں غلط تاثر جاتا ہے۔اور جہاں تک پرائیویٹ ہوسٹلز کی بات ہے زیادہ تر ہوسٹلز کے یہی حالات ہیں دور داراز سے لڑکیاں پڑھنے آتی ہیں پھر کوئی پوچھنے والا ہوتا نہیں اور آخر میں یہی حالات ہو جاتے ہیں

ہاسٹل جا کر لڑکا یا لڑکی اپنے والدین کی نگرانی سے محروم ہو جاتے ہیں
کم عقلی میں جیسی بھی صحبت میسر آتی ہے وہ اسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں
کئی ہاسٹلز میں پراسیکیوٹرز بھی ہوتی ہیں جو خود کو سٹوڈنٹ یا جاب ہالڈر شو کروا کر پلان کے تحت بچیوں کو نشے اور غلط کاموں پر لگوا دیتی ہیں

ایسا سب کے ساتھ یا ہر کہیں نہیں ہوتا جناب۔ اور ہاسٹلز کیا مخصوص ہیں ؟ ڈیز سکالرز یا ورکرز میں بھی ایسا ہو سکتا۔

میں نے کب کہا کہ سب کے ساتھ ہوتا ہے؟
پہلے تو بالکل بھی نہیں ہوتا تھا لیکن پاکستان میں اب یہ رجحان تیز ہو رہا ہے
آج پڑوسی کے گھر میں اگ ہے تو کل یا پرسوں ہمارے گھر بھی آ سکتی ہے

’ٹرینڈی لائف‘ اور ’نام نہاد سوشل اسٹینڈنگ‘ بہتر بنانے کے چکر میں بہت تشویشناک صورتحال ہے

اپ کی تربیت خاندان بڑا میٹر کرتا ہے میں نے اپنی لائف ہاسٹل میں گزاری ہے اب تک! ایسا ماحول بھی ملا پر اللہ کا بڑا احسان ہے خود کو بچا کر رکھا بہت سی چیزوں سے ! اللہ بس اپنا کرم رکھے انسان پر

ماشاء اللّہ.. ٹھیک کہا آپ نے کہ خاندان بڑا میٹر کرتا ہے. آمین

بھائی یہ بھی باتیں ہی ہیں

انسان جب بالغ ہو جاتا ھے وہ اپنا اچھا برا خود سلیکٹ کرتا ھے

اپکا کیا خیال ھے کہ ایسی حرکتیں کرنے والے سب لوگوں کے خاندان گندے ہوں گئے

بھائی اگر انسان نسلی ہوگا تو اسکی عادت و اطوار بھی اس بندے سے بہتر ہونگی کہ جس نے بچپن سے گھر میں جو دیکھا وہ کیا.. مطلب یہ کہ انسان ابتدائی طور پہ سیکھنے اور سمجھنے کا عمل اپنے گھر سر شروع کرتا ہے. اس لیے خاندان بہت میٹر کرتا ہے.

سگریٹ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے مگر اس کا لڑکی کی پڑھائی سے کوئی تعلق نہیں- اس طرح کی کیپشن سے ان لڑکیوں کا راستہ بند نہ کریں جو ایسا کچھ نہیں کرتیں-

یہ اپنے قول و فعل کی خود ذمہ دار ہے کیا اسکو کوئی مجبور کر رہا کہ وہ ایسا کرے۔ ساری تعلیم ہاسٹلز میں رہ کر حاصل کی مجال ہے کہ کوئی ایسی لت پڑی ہو۔ اچھائی اور بُرائی کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں ہوتا اس میں پاکستان کا کیا قصور۔

یہ ڈرگ کیسے ان ہاسٹلوں پر پہنچ جاتی ہیں، اس ڈرگ مافیا اتنی بارسوخ ہیں کہ ان کو روکا نہ جاسکے۔ ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کرتی ھے۔ یہ بیٹا بیٹی کا تماشہ چھوڑ دو اس کے سورسز کو عبرت کا نشان بنا دو چوک میں لٹکاو۔ ویسے سنا ھے لبرل خاندانوں یہ عام سی بات ھے

یہ غور طلب ھے اتنا مہنگا ڈرگ اتنی آسانی سے مل جاتا ہوگا غرباء کے بچوں کو ٹریپ کیا جاتا ہوگا اکثر ایک آدھ سٹوڈنٹ ان محفلوں کا روخ دیکھاتے ہونگے، لبرل کے بچے آدھے ہوتے ہیں گوروں کی طرح پیتے ہونگے، عام لوگوں کی طرح غڑپ غڑپ کرکے نہیں پیتے ہونگے؛ لبرل میں یہ ایک سمبل آف سٹیٹس ھے۔

 

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Exit mobile version