Categories
Social

سانحہ مری کے بعد مری والوں پر تنقید

جب میں نے ٹی وی پر یہ سنا تو مجھے بہت حیرت ہوئی کہ مری کے ہوٹلوں نے گاڑیوں کی بڑی تعداد دیکھ کر فوری طور پر اپنے ہوٹلوں کا کرایہ فی رات اپنے اصل کرایہ کے 100 فیصد سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔

ایک سیاح خاتون کے مطابق 25 ہزار میں کمرہ ملا، بچی کی طبیعت بگڑنے لگی تو ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے ایک کپ گرم پانی تک نہ دیا گیا

میرا قریب 1992 سے آزادانہ مری آنا جانا ہے زندگی کے دو مسلسل سال میں نے مری میں گزارے ہوے۔ اسی حوالے سے مری کے مقامیوں سے ملنا جلنا بھی ہے۔ مری والے مجموعی طور پر بدطنیت، بدفطرت، احسان فراموش، گھٹیا اور لالچی لوگ ہیں۔ سانحہ مری کے معاملے میں یہ جتنی مرضی صفائیاں پیش کریں

وہ ناقابل اعتبار ہیں۔
ان کے گھٹیا پن کا لیول یہ ہے کہ گھر کے صحن میں سے بہتے چشمے سے کسی ہمساے کو پانی بھرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ حالانکہ اس چشمےپہ انکاایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتاباقی باتیں تو کہیں بعدمیں آتی ہیں۔ مری کےلوکل لوگوں نےبہت سےبیواوں یتیموں کےہوٹلوں پر قبضے کر رکھے

ایک ہی جگہ کو بیسیوں لوگوں کو فروخت کرنے کے بعد اس پر پھر سے قبضہ کر لیتے۔ اگر کوئی وہاں پرتعمیرکی کوشش کرے تو ہر ممکن طریقےسےاس کی راہ میں روڑےاٹکاتے۔غرض کہ اپنی بوٹی کے لیے یہ دوسرےکی بکری ذبح کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔حکومت بنیادی اورمری والےمجموعی طور پراس سانحہ کےذمہ دارہیں

گاڑی کو دھکا لگانے کے 10 ہزار مانگنے والوں کی پتہ نہیں کیا مجبوریاں ہوں گی 50000 ایک رات ہوٹل کا کرایہ کرنے والے کیسے ولی اللہ ہوں گے جب ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں تو گالی تو حق بنتا ہے عباسی لوگ ڈیفنڈ کرنے کی بجائے حقیقت دیکھیں اور لوگوں کو دل کی بھڑاس نکالنے دیں

ذاتی تجربہ ہے کہ پاکستان کے تمام سیاحتی مراکز کے لوگوں میں سے مری کے لوگ بدترین اور پرلے درجے کے بدتمیز انسانیت سے عاری لوگ ہیں۔

جس جس کے نام کے آگے عباسی لکھا ھے وہ ہمیں بتا رہا ھے مری کے لوگ انسان نہیں فرشتے ہیں

میں نے پنڈی میں ایک گھر کااوپر والا پورشن رینٹ پر لیا ہوا تھا، ہم 3 لوگ تھے، میں سال بعدQAU ہوسٹل شفٹ ہو گیا،ایک دن کسی کام سے پنڈی آیا تو رات بہت ہو گئی، میرے سابقہ روم میٹ جو سرگودھا کا تھا اسی پورشن میں بلا لیا، میں چلا گیا، مالک مکان کو پتا چلا تو اس نے اسی وقت مجھے

ہاں سے نکال دیا، سخت سردی میں میں اپنے قائد اعظم یونیورسٹی کے ہوسٹل گیا. یہ پوری بیلٹ ہی زلیل اور کمینے لوگوں سے بھری ہوئی ہے،وہ دن اور آج کا دن، میں کبھی کس پہاڑییے سے دوستی یا خیر کی امید نہیں رکھی
یہ لوگ نہت بے مروت، بے حس ہوتے ہیں، مہمان نوازی تو چھو کے بی نہیں گزری ان سے

میرا ایک دوست ہے مری سے، بچپن وہاں گزرا اور اب کوئی ۳۰ سال سے لاہور آباد ہوچُکا ہے۔ اس کی مری والوں کے بارہ میں بلکل یہی رائے ہے

ہم پوٹھوہاری لوگوں بھی دوست وغیرہ پہاڑی کہتے ہیں
دوست کہتے ہیں کہ پہاڑی لوگ تھوڑے سخت مزاج ہوتے ہیں

جہاں تک میں نے 15 سالہ تعلق کے بعد نتیجہ نکالا ہے مری والوں میں جو چیز بلکل بھی نہیں ہے وہ ہے “احساس”۔
جو چیز بہت زیادہ ہے وہ ہے پیسے کا لالچ.

اور ایک بار صبح 7 بجے مری پہنچ گیا اس کے بعد 11 بجے تک کسی ہوٹل والے نے کمرہ نہی دیا کہتے 12 بجے نیا ٹائم سٹارٹ ہو گا پھر کمرہ ملے گا وہ 4 گھنٹے بھی آج تک یاد ہیں

بھائی مری والوں کے مطعلق سوچ میری بھی کچھ ایسی ہےجب تک آپ کمرہ کنفرم نہ کرواؤ واش روم بھی استعمال کرنے نہیں دیتے ۔منرل واٹر کی بوتل میں چشموں کا پانی بھر کر پیسے وصول کر لیتے ہیں

چلیں کم سے کم بھوک، غربت، روپیہ ،پیسہ ، سے ہٹ کر ہمیں اپنی اخلاقیات ،اپنی ذہنیت اور اپنی انسانیت وغیرہ پر بات کرنے کا موقع توملا ہمیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ہم اپنی جانچ پڑتال بھی کرنا جانتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیکھنے اور پھر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے

 

 

 

برف میں پھنسی ہوئ گاڑیوں کے مسافر ایک منٹ اور چوبیس سیکنڈ میں
بے بس ہو جاتے ہیں اور آکسیجین کی جگہ کاربن ڈائ آکسائیڈ اس گاڑی کو
“ ڈیتھ چیمبر “ میں تبدیل کر دیتی ہے ۔

ہوٹل کے کرائے اتنے زیادہ تھے کہ اپنی بیوی کے زیورات دے کر ایک رات کے لیے کمرہ لیا۔ مری سانحہ میں بیچ جانے والے ایک خاندان کی روداد. ریاست مدینہ

مری کے ہوٹل اور گاڑیوں والے ہر سال اسی طرح بیغیرتی اور حرام پن کرتے ہیں۰ جو آواز اُٹھاتا ہے اس کو بدمعاشوں کی طرح سارے مل کر مارتے ہیں،

مری میں ہونے والی اموات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتی اداروں کی غفلت، عدم فعالیت اور نااہلی کے باعث لوگ قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور چھوٹا سا مری نہیں سنبھال سکتے تو ملک کیسے چلا سکتے ہیں؟

کراچی کمپنی اسلام آباد کی ایک پوری فیملی (6 ممبران) رات بھر برفانی طوفان میں سسک سسک کر اپنی جان گنوا گئی۔ لیکن اسوقت کوئی انکی مدد کو نہ پہنچا۔ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ کہیں تعداد زیادہ بتانے پر حکومت کی نااہلی سامنے نہ آجائے۔اس پوری فیملی کی ناگہانی موت کو چھپا دیا گیا۔

مسئلہ صرف مری کا نہیں۔ مرے ہوئے ضمیر کاہے۔اوریہ مسئلہ علاقے،قوم،زات،زبان سےبالاترہماراقومی مسئلہ ہے۔ایک بارپھرکہونگا قومی لیول پر “زہن سازی” کی ضرورت ہے۔خالق کہتاہےتیرارزق میں نےلکھ دیاہے۔اب حلال طریقےسےکماویاحرام طریقےسے، یہ تم پہ چھوڑاہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Exit mobile version