Categories
Social

گلبرگ گرین آسلام اباد F سیکٹر

پچھلے ڈیڑھ سال سے میں بیٹے کے گلبرگ گرین آسلام اباد F سیکٹر میں زیر تعمیر مکان کی supervision کر رھا تھا ۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے تقریباً مہینہ میں دو دفعہ میں ھاہوسنگ سوساہٹی کے انچارج سیکرٹری سے ملنے کی کوشش کرتا رھا ۔ 72 سالہ senior citizen ھونے کے باوجود مجھے سیکرٹری صاحب

نے ملنے کی اجازت نہیں دی اور کبھی ایک کبھی دوسرے افسر سے ملنے کو کہتے رھے ۔ مسلہ یہ تھا کہ اس وعدہ کے ساتھ کہ وہ واپڈا کی LT واہرز جو ایک درجن سے زاید پلاٹ کے اوپر سے گزر رہی تھیں ، ھٹوا دیں گے ۔ مگر آج ایک سال سے زاید عرصہ گزر چکا مکان کے گراؤنڈ فلور کو مکمل ھوہے اور اوپر ۔

کے فسٹ فلور کا ڈھانچہ بھی کھڑا ھو گیا سواہے اس پر لنٹر ڈالنے کے ۔ لنٹر نہیں ڈالا جا سکتا کہ اوپر electric wires ہیں ۔ ھمیں ایک بہانہ دوسرا بہانہ کر کے ٹالا جاتا تھا ۔ ابھی ایک سال کے بعد پتہ چلا کہ انہوں نے جن لوکل ولیجرز سے زمین خریدی تھی ان کو انہوں نے زمین کی پوری قیمت ۔۔

ادا نہیں کی اور اب وہ لوگ ان کو کوہی بھی کام کرنے نہیں دے رہے ۔ اصل مالکوں کو پوری قیمت ادا نہ کرنے کا ایک اور ثبوت یہ ھے کہ کہی دوسرے سیکٹرز ، جیسے سیکٹر M میں یہ 12 سال گزرنے کے باوجود پلاٹس کی possession نہیں دے پا رہے ۔ ۔۔۔

پلاٹس فروخت کرنے کا یہ دھندہ اسی طرح دوسرے پراجیکٹ میں بھی جاری ھے ۔ اگر سوشل میڈیا کے کچھ investigative صحافی اس مسہلے کی تحقیق کریں تو کہی ایک Mafias کو بےنقاب کر سکتے ھیں ۔ اگر کوہی اس سلسلے میں مجھ سے مزید معلومات چاہتا ھے تو 9096046-0346 پر رابطہ کر سکتا ھے ۔

میں نے پروفیسر کی حیثیت سے اپنی تنخواہ کی بچت سے جو تھوڑی بہت رقم بچی وہ بیٹے کو دے دی کہ مکان بناہے ۔ اب مکان کی اوپر والی منزل پر ان ظالموں کی وجہ سے چھت نہ ھونے کی بنا پر بارشوں سے پورا مکان تباہ ھو رھا ھے ۔ سوشل میڈیا کے activists سے درخواست ھے کہ وہ ھماری مدد فرماہیں ۔۔

دوسرے دوسرے دوستوں سے درخواست ھے کہ اگر وہ اس اپیل میں substance پاتے ھیں تو اس ٹویٹ کو آگے share کریں تاکہ real estate اور کننٹرکشن جیسے کاروبار میں اوپر بیان کردہ مساہل کا تدارک ھو سکے ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ ، اسلام آباد ھاہی کورٹ سے بھی Sue Moto ایکشن لینے کی درخواست ھے ۔ CDA کے حکام ، Mayor of Islamabad سے بھی یہی اپیل ھے ۔

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Exit mobile version