Categories
Social

شادی بیاہ کے موقع پہ رواج

ہمارے گاؤں میں بہت پہلے رواج ہوا کرتا تھا کہ کسی بھی شادی بیاہ کے موقع پہ رشتہ دار چینی (کھنڈ) گندم کی بوری یا چاول کا گٹو، دیسی گھی ،گڑ اور دودھ وغیرہ شادی والے گھر میں لاتے تھے تاکہ گھر والوں کا بوجھ بٹایا جا سکے اب اس مہنگائی کے دور میں وہی رواج واپس لانے کی ضرورت ہے

اس میں کوئی برائی نہی کہ بجائے مہنگے کیک اور دوسرے تحفوں کی بجائے اشیاء خوردونوش (خاص طور پہ پکانے کا تیل )کو تحفے کے طور پہ دیا جائے

گاؤں میں یہ اور اس قسم کے رواج آج بھی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوئے ہیں

کافی کم ہوئے ہیں پہلے قریبی رشتے دار ہفتہ بھر پہلے آجاتے تھے شادی میں شرکت کے لئے –

آج کل لوگوں میں جدت آگئی ہفتہ پہلے رشتہ دار شادی والے گھر آجائیں تو برا منا جاتے ہیں آج کل زیادہ تر ٹو دا پوائنٹ والا ہی معاملہ ہی چلتا ہے

کافی لوگ اپنی زندہ مرغیاں بھی دیتے تھے

یہ رواج ابھی بھی ہے پنجاب کے بیشتر گاؤں میں.. مہنگائی کی وجہ سے یہ ضرور ہوا ہے کہ اب بوری نہیں کلوگرام میں دیا جاتا ہے.

امی کے پاس ایک باؤل ہوتا تھا اسکو ٹوپہ کہتے تھے اس کا حساب رکھتی تھیں دینے کے لیے

میری امی کے گاوں میں بھی ایسا تھا چارپائیاں بستر استعمال کے برتن بھی دیے جاتے تھے کہ مہمانوں کو پریشانی نہ ہو

ہمارے گاؤں میں ہر گھر میں ایک پرانی چارپائی اور کھیس ایسکٹرا ہوتا ہی شادیوں اور فوتگیوں پہ دینے کے لیے ہے

ہمارے ہاں یہ روایت اب بھی ہے۔ اس رسم کو بلوچی میں “بجار” کہتے ہیں۔

اور دوسرا رسم کہ جس گھر میں فوتگی ہو ان کے لئے اور آنے والے مہمانوں کے لئےکم از کم تین دنوں تک رشتہ دار اور ہمسائے بناتے ہیں۔

یعنی اب پٹرول لانے کی ضرورت ہے تاکہ شادی والے گھر کا جنریٹر اور گاڑی چلتی رہے

شادیوں میں رقم دی جاتی ہے جسے “نوتہ” یا “پات کہتے ہیں۔بعض شادی کے کھانے پر خرچہ اسی سے نکل آتا ہے۔

خاص طور پر فوتیتگی کے موقع پر جہاں ہمارا دین حکم دیتا ہے مرحوم کے گھر والوں کو کھانا کھلانے کا اور یہاں کھانا نہ کھلانے پر عزیز ناراض ہو جاتے ہیں

ضلع جھنگ/چنیوٹ میں اب بھی اکثر فیملیز میں رواج برقرار ہے لیکن یہ بھی اک قسم کا “نیوندرا” ہی ہوتا ہے۔شاہ جیونہ میں اک فیملی میں لڑائی ہو گئی تھی کہ ہم نے آپ کی بیٹی کی شادی پر یہ سامان دیا آپ لوگوں نے نہی دیا

کیا آپ آج کل اپنے بھائی بہن اور باقی رشتہ داروں کے گھر چاول چینی گڑ لے کے جا سکتی ہیں؟ نہیں.. یہ آپ کی ٹوئٹ کی حد تک ھے عمل نہ آپ نے کرنا نہ کسی اور نے

پختون معاشرے میں ابھی بھی ایسی روایات موجود ہیں کہ شادی بیاہ کے قریباً سبھی اخراجات لڑکے کے گھر والے اٹھاتے ہیں تاہم اب اس میں لڑکی والے تمام بوجھ لڑکوں پر نہیں ڈالتے ، دونوں گھرانے برابری کی سطح پر اخراجات اٹھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود لڑکی کے گھر والوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو ابھی بھی ہوتا ہے نہ صرف شادی بیاہ کے موقع پر بلکہ فوتگی ہونے پر بھی۔ بلکہ فوتگی پر تو آنے والے مہمانوں کو کھانا بھی سب گاؤں والے مل کر کھلاتے ہیں۔

شادی کے موقع پر اشیاء خوردونوش کی بجائے رقم دی جاتی ہے جس سے ان کی مدد ہو سکے

اور سنکی رہائش کا انتظام بھی کیا جاتا ہے

ہمارے سرائیکی وسیب میں ابھی بھی بہت سی خوبصورت روایات موجود ہیں خاص طور پر مریض کی تیمارداری کے وقت اس کے ہاتھ میں پیسے دے کر آنا۔ آپ کی تجویز بہت بہترین ہے اور بطور معاشرہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد ہر حال میں کرنی چاہئے۔

بالکل حالیہ زمانے کے لحاظ سے اس رسم اور رواج کو دوبارہ شروع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ۔ انسانوں کے معاملات انسانوں نے ہی طے کرنے ہوتے ہیں بس ان میں فہم اور ذہانت درکار ہے ، منافع خود ہی مل جاتا ہے

ہم خوشاب والے اس رسم کو “گوگی” کہتے ہیں. . میرے گاؤں میں شادی پر کھنڈ دینے کا رواج ہے.
کوئی زیادہ قریبی ہو تو ساتھ فروٹ بھی لے جاتے ہیں.
پھر وری والے دن دولہا کے کپڑے اور ساتھ بسکٹ, کنگھا, شیشہ, رومال, سویاں, بھی دیا جاتا ہے

اس سے زیادہ ضرورت لڑکے والوں کو شرم کرنے کی ہے ماں باپ لڑکی بھی دیں جہیز بھی دیں کھانے بھی کھلائیں. لڑکے والوں کی ہوس اور بھکاری پن ہی ختم نہیں ہوتا

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Exit mobile version