Categories
Social

آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟

“سب سے بڑی کمزوری” کے حوالے سے سوال کے بارے میں آپ کو اسے طاقت کے نکات دکھانے کے ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے۔ مثال کے طور پر آپ جواب دے سکتے ہیں “میرا خاندان میری سب سے بڑی کمزوری ہے اور یہ مجھے اپنے کام سمیت ہر کام میں کامیاب ہونے کے لیے اضافی میل طے کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک لاجواب ردعمل ہے اور امیدوار اور انٹرویو لینے والے کے لیے ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔

میری سب سے بڑی کمزوری ٹائم مینجمنٹ ہے۔ وقت کا نظم و نسق وقت کی پابندی کے معنی میں نہیں، بلکہ توانائی اور دستیاب کاموں کی کثرت کے مقابلے میں اس کا مقابلہ کرتے وقت۔ اور اگر ہم اس کے بارے میں حقیقی بنیں تو، میں جانتا ہوں کہ ہم سب کو ایک ہی مسئلہ کا سامنا تھا (اور اب بھی ہے)۔ اگر مجھ میں کمزوری نہیں ہے تو کیا ہوگا؟ اور میں عملی طور پر ایک کامل ملازم ہوں؟ میں اسے کیسے ایڈریس کروں؟ یہ طاقت کی عکاسی بھی کر سکتا ہے۔ اگر آپ کام کے لیے اتنے وقف ہیں تو شاید آپ کو نہ کہنا اور کردار میں ضرورت سے زیادہ کام کرنا پسند نہیں ہے؟ کیا یہ آپ کے کام کی زندگی کے توازن کو متاثر کرتا ہے یا آپ اپنے منافی اوقات میں سب کچھ حاصل کرتے ہیں؟

یہ شروع میں ٹھیک ہے۔ آپ اپنے آپ کو، اندرونی ماحول یا بیرونی ماحول کو دیکھ کر اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟ بیرونی ماحول کے بارے میں مزید دریافت کریں، دوسرے معیارات کیا ہیں؟ کام یا کام کیا ہے اس پر منحصر ہے – ایک کام میں طاقت دوسرے میں کمزوری ہوسکتی ہے۔ غور کریں کہ آپ کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے، پھر ایسے حالات یا ملازمتوں کے بارے میں سوچیں جہاں یہ طاقت مخالف نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ جو لوگ زیادہ تر مہارتوں میں مضبوط ہوتے ہیں ان میں دوسرے ملازمین کے لیے ہمدردی میں کمزوری ہو سکتی ہے کیونکہ وہ اسی طرح کی کوتاہیوں سے نمٹ نہیں پاتے۔

اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ میں کوئی کمزوریاں نہیں ہیں، تو آپ وہ شخص نہیں ہیں جو خود کو ان کے آرام کے علاقے سے باہر رکھتا ہے… یا آپ خود سے بھرے ہوئے ہیں… ہم سب میں کمزوریاں ہیں جن پر ہم کام کرتے ہیں، لہذا ہم جو چاہتے ہیں وہ بنا سکتے ہیں۔ ہجے یا پروف ریڈنگ کے علاوہ اگر آپ کامل ہیں تو کیا ہوگا؟ کاروباری انگریزی کے استاد کے لیے یہ ایک کمزوری ہوگی۔ میں نے اپنے انٹرویو میں ہمیشہ اس سوال کا سامنا کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں، میں نے ہمیشہ ایماندارانہ جواب دیا تاکہ کمپنی کو معلوم ہو جائے کہ اگر میں ان میں شامل ہوتا ہوں تو مجھ سے کیا امید رکھنی چاہیے۔ اور جو جواب میں نے انہیں دیا وہ میری سماجی مہارت ہے، جیسا کہ میرا معمول کا کام بیک آفس میں ہوتا ہے، میں شاذ و نادر ہی کلائنٹس سے براہ راست بات کرتا ہوں۔ لیکن کمزوریوں کو کمزوری نہیں رہنا چاہیے، ان پر قابو پانے کا ایک طریقہ ہونا چاہیے اور اپنی طاقت بننا چاہیے۔

نئی کمزوریاں ہو سکتی ہیں لیکن یہ پریشان کن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ خود کو بڑھنے کا موقع بھی ہے۔ ہم سب میں سب سے بڑی کمزوریاں ہیں۔ میرے لیے مجھے ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میں ہمیشہ اپنی طاقت پر فوکوس کرتا ہوں کہ مجھے جو بھی رکاوٹیں درپیش ہوں مجھے ان سے نمٹنا چاہیے۔ یہاں تک کہ غیر متوقع بیماری بھی۔ میں مایوس ہو سکتا ہوں۔ اگلا سوال: میں نے اس سے کیسے نمٹا؟ میرے 10 ‘حکموں’ کا حوالہ دیا۔ اچھا ختم ہوا۔ نوکری مل گئی۔ اس کی کئی طرح سے تشریح کی جا سکتی ہے۔ میں کچھ ایسا کہوں گا جس کا تعلق نوکری یا روزمرہ کے کاموں سے ہو۔ مثال کے طور پر میں عمل میں تفصیل پر بہت زیادہ توجہ دے سکتا ہوں اور اس میں مجھے کچھ وقت لگتا ہے۔ لیکن میں اتنا موثر ہوں کہ مجھے اکثر غلطیوں کو سدھارنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس لیے مجموعی طور پر وقت کی بچت ہوتی ہے۔

ہم میں سے ہر ایک میں ایک کمزوری یہ ہے کہ ہم کافی غیر ملکی زبانیں نہیں جانتے ہیں 🙂 میرا جواب یہ ہے کہ میں نے ایشیا میں تقریباً 10 سال رہنے کے باوجود چینی زبان نہیں سیکھی۔ اپنی کمزوری جاننے کے لیے آپ کو خود تجزیہ کرنا چاہیے تھا۔ انٹرویو میں اپنی کمزوری کو قبول کرنا ایک بہت اچھا چیلنج ہے۔ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کمزوری ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ سچے انسان ہیں اور مستقبل قریب میں آپ اپنی کمزوری پر قابو پا کر ترقی کریں گے۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص کامل نہیں ہے۔

Categories
Social

Stage Actress Dressing Room Leaked Video Full

Lahore theaters are notorious for their scandals. The recent one is about leaked videos from changing room of Shalimar theater for various dancers and actresses. Same thing was happened in some of Karachi studios sometime back.

https://www.youtube.com/watch?v=h-91jKdi9wk

Categories
Social

قحط الرجال – الوداع فاروق قیصر

مہدی حسن کے رخصت ہونے پر کہیں پڑھا تھا کہ: ‘بوجہِ علالت ان کی موسیقی ان کی وفات سے دو دہائیوں پہلے ہی بند ہوگئی تھی۔’ مگر فنکار کا اصل ماتم تو اس کی موت کے بعد ہوتا ہے، حالانکہ وہ بعض اوقات موت سے پہلے ہی موت سے زیادہ مصائب کا شکار ہوتا ہے۔ مہدی صاحب نے جتنا نام کمایا، اتنی دولت جمع نہ کرسکے۔ اور فیڈرل بی ایریا کے 120گز (4 مرلہ) کے مکان میں ساری عمر گزار دی۔

پچھلے دس بارہ برسوں میں بیسویں صدی کے کتنے ہی مشاہیر چل بسے۔ مہدی حسن معین اختر کمال احمد رضوی مشتاق احمد یوسفی مختار مسعود اطہر شاہ خاں جیدی جنید جمشید فہمیدہ ریاض غیور اختر منو بھائی عبید اللہ بیگ قریش پور عبداللہ حسین انتظار حسین اشتیاق احمد اے حمید ہاجرہ مسرور ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ آپ ناموں کی نہ ختم ہونے والی فہرست دیکھتے رہیے اور کڑھتے رہیے!

“۔۔۔مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ ایک عالَم موت کی ناحق زحمت کا دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا۔ ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا۔ زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں۔۔۔” (آوازِ دوست- مختار مسعود)

میں دنیا کو اپنی ذات سے کوئی علم، کوئی فن،کوئی تسکین و طمانیت نہیں دے سکا۔ مگر قحط الرجال کے غم میں ہر موت پر سینہ پیٹتا ہوں۔ اردگرد بسنے والوں اور دن بدن روبہ انحطاط معاشرے کو حشرات الارض سے تشبیہہ دے لیتا ہوں اور اپنے تئیں تیس مار خاں سمجھ لیتا ہوں۔ میں کوشش کر کے بھی مختار مسعود کے پائے کی نثر، یوسفی کے معیار کا مزاح، مہدی حسن کے عشرِ عشیر موسیقی، کمال احمد رضوی جیسا سادہ چبھتا طنز، جیدی جیسا قلندری خاکہ، عبید اللہ بیگ جیسا کامل تنوع، قریش پور جیسا نستعلیق اور شفیق لہجہ، اے حمید جیسی طلسماتی دنیا اور اشتیاق احمد جیسا انتھک قلم نہیں دے سکتا۔۔۔مگر میں سر میں خاک ڈال کر قحط الرجال کا غم کھا کر مُردوں والی زندگی ضرور جی سکتا ہوں۔

قحط الرجال ایک حقیقت ہے۔ قحط الرجال ایک پیشن گوئی بھی ہے جو کہ آثارِ قیامت میں سے ایک ہے۔ قحط الرجال سے مفر ممکن نہیں۔ قحط الرجال کا انبوہِ غم ختم نہیں ہوسکتا مگر کم شاید ہوسکتا ہے ، اگر ہم جانے والے “جیسا” بننے کے بجائے اپنی اپنی نیتِ شوق کو خالص اور طبعزاد رکھیں اور پیمانۂ عمل کو خالی نہ ہونے دیں۔ تمنا کی وسعت اور دشتِ امکاں میں دوسرا قدم ڈھونڈتے ڈھونڈتے جادہ و منزل سے بے خبر نہ ہوجائیں۔ آج فاروق قیصر کے بچھڑ جانے پر دل بہت افسردہ و رنجیدہ ہے۔

مگر وہ تو ہم سے اپنی حیات میں ہی بچھڑ گئے تھے، وہ تو ایک عرصے تک مائل بہ کرم ہی رہے ہوں گے، کون جانے کسی نے ان کی جلائی ہوئی شمع سے اپنی طبعزاد صلاحیتوں کے لیے روشنی لی بھی ہوگی یا نہیں۔ ایک بڑا آدمی، ایک زرخیز دماغ، ایک لازوال فنکار اپنے خداداد فن کے ساتھ روانہ ہوا۔ آوازِ دوست میں مختار مسعود کا “طویل تر” مضمون “قحط الرجال” مجھے بھلائے نہیں بھولتا۔ یوسفی کے آبِ گم کا “ناسٹیلجیا” ۔۔ “ماضیٔ تمنائی” ۔۔۔ اور “یادشِ بخیریا” میری زندگی کا عنوان بن کر رہ گئے ہیں۔

مختار مسعود کا لکھا ایک ایک لفظ سنہری ہے: ” اس وبا میں آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار، مردم شناسی ہو تو نایاب۔ دل کی خاطر مجھے منظور تھی کہ اس کو آرزدہ رکھنا کفر ہے۔ اس کی کشادگی کے بہت سے طریق ہیں جو موقع کی مناسبت سے اختیار کرتا ہوں۔۔۔” “۔۔۔مجھے یاد آیا کہ دل جوئی کے لئے ایک بادشاہ چھپ کر پُرانی پوستین سر آنکھوں سے لگاتا تھا۔ ہر شخص کے پاس اس کی پوستین ہوتی ہے مگر اکثر اس سے منکر ہو جاتے ہیں کیونکہ اسے قبول کرنے کے لئے جس جرأت کی ضرورت ہوتی ہے اس کی کمیابی قحط الرجال کی پہلی نشانی ہے۔۔۔”

آج انکل سرگم کے خالق کے اپنے خالق سے وصال پر آوازِ دوست میں قحط الرجال دوبارہ پڑھوں گا۔۔۔ روؤں گا۔۔۔پرانی پوستین کو آنکھوں سے لگا کر بھگوؤں گا۔۔۔ “قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔۔۔” (آوازِ دوست- مختار مسعود) ہر دور میں قحط الرجال کی ایک نئی مثال رقم ہوتی ہے۔ ہر عالم، ادیب و فنکار کی موت قحط الرجال کے معنی کو مزید واضح کردیتی ہے۔

“از کجا می آید ایں آوازِ دوست۔۔۔”

Exit mobile version