Categories
Politics

Ali Zaidi and Lifafa

Federal minister for Maritime affairs Ali Zaidi from Karachi is once again in the news. Ali Zaidi and Lifafa scandal is raging high on social media. Ali Zaidi is not new to the controversies and he likes to be in the news for all the wrong reasons.

Ali Zaidi and Lifafa is a new comedy series out there. Ali Zaidi said in a program yesterday that he received the report in a envelope in 2017 which was left at his house by a motorcyclist and another comedian Aamir Liaquat says that the report was given to Ali Zaidi by the High Court. It seems that every member of the ruling party is rather working against his/her own government. Its a government of clowns.

We should appreciate PTI MNA’s and MPA’s for the entertainment they have provided to us during this pandemic lock down. They are rather doing this comedy service to Pakistan when there is little to rejoice and laugh about. Nothing is working right in the country and in these tough circumstances, these ministers and advisors are providing daily sitcoms through the talk shows where anchors of the same calibers are hosting.

Alas , losing half country and the whole nation still they are riding on old donkeys. For bright future you have to change your mind sets. Bad luck of our country agencies that except mafias trolls and touts they’ve not been found any honorable, trustworthy and dignified person for their illicit trolling. Everyone thinks of changing the world, but no one thinks of changing himself.

JIT by Ali H Zaidi of PTI exposed that “Uzair Baloch was approached by PTI Karachi to be the Part of PTI”. If JIT is telling the truth, then Ali Zaidi should show courage to ask from MQM, Zulfiqar Mirza & PTI KHI & Sindh president about Uzair Baloch. He must also tell us the truth about nexus of PTI in this whole game and who is actually handling the threads of PTI and its handlers.

This idoitic minister is trying to claim that a unknown Lafafa he received from a unknown source is correct then question is much is about to source Ali zaidi is talking about which source? Is it not crime? Ali Zaidi says that Zulfikar Mirza is his hero and then in the same breath, he said that Mirza was behind gangsters in Karachi. It means there is no seceret is safe in state. Or does it just show the non seriousness of these clowns?

The people involved in thousands of incidents including the Baldia factory who were declared terrorists by Imran Khan himself are now part of Imran Khans cabinet But the current government does not shy away from making accusations without any evidence. What is happening in Pakistan? The lifafa used to have something else in it, the lifafa was famous for something else, now the JIT report has also started coming in the lifafa. This is Naya Pakistan for you.

Even after the JIT report of Baldia Town and Uzair Baloch who are fans of PPP and MQM, if 30 years are not ashamed to vote, note and support these terrorists. So can the virus itself rain stones on this nation. May Allah have mercy on us. Amen.

Categories
Politics

عثمان بزدار گرفتار

اہل پنجاب جتنا بھی زور لگا لیں۔ خواہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی اکثریت التجا کرتی رہے’ عثمان بزدار سبکدوش نہیں ہوں گے۔ جب بھی ہوے’ گرفتار ہی ہوں گے۔ فرد جرم مرتب ہو رہی ہے۔ ایجنسیوں کے پاس اخبار نویسوں سے زیادہ اور ظاہر ہےکہ مصدقہ معلومات ہیں۔

اب تو یہی کہہ سکتا ہوں۔
خواب دیکھنے بند کر دیں

کیا آپ وجہ جانتے ہیں؟ کیا وہ استخارے والے وزیراعلی ہیں؟ – رانا صاحب اسے سیاستدانوں نے وزیراعلی بنایا لہذا سیاستدانوں کو ہی چاہیے کہ اسے اتاریں یہ حق اور کسی کے پاس نہیں

وزیراعلی کسی بھی پارٹی کا ہو لیکن ایجنسیوں کا رول نہیں ہونا چاہیے جب ہم #ووٹ_کو_عزت_دو کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف مسلم لیگ ن نہیں سب کے ووٹ کی عزت ہونی چاہیے. کس نے عثمان بزدار کو ووٹ دیا تھا؟ حتی کہ کسی یوتھئے نے بھی نہیں ۔

اصلی ڈگریوں والے کریم کار چلا رہے ہیں۔۔۔۔
جعلی ڈگریوں والے جہاز اْڑا رہے ہیں۔۔۔
بغیر ڈگریوں والے اسمبلیاں چلا رہے ہیں۔

ہمارے ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ انصاف کا فقدان ہے۔ ہماری عدالتیں نااہل ہیں۔ جو قانون انصاف نہ دے سکے اس کو تالہ لگا دینا چاہئے کس کس کا رونا روٻں گے آپ جہان وزٻر قانون پنجاب راجہ بشارت اپنے اختٻارات کا ناجائز استعمال کر را ے اور پولٻس اشتھارٻوں کو گرفتار نٻی کر رئ

فرد جرم کیا صرف انہی کیلئے مرتب ہو رہی ہے یا اور وزراء و مشیران کی بھی تیار ہو رہی ہے اور ان سب کے باوجود وزیراعظم کے ایماندار ہونے کے دعوی کی کیا حیثیت ہے؟ – پہلے لگتا تھا کہ لوگ صرف تنقید برائے تنقید کر رہے ہیں لیکن یقین ہو چلا ہے بزدار بشریٰ بی بی کی سلیکشن ہے

ایجینسیوں کا کیا اب یہی کام رہ گیا ہے کیا, ایف آئی یا نیب کچھ کرتی ہیں جب کوئی کمپلین ہوتی ہے یا کرپشن کی خبر اخبار میں آئے – اچھی بات ہے شائد ایسے ہی ہماری جان چھوٹ جائے – اگر ایجنسیاں اپنا کردار ادا کرتی تو الطاف حسین۔ عزیر بلوچ وغیرہ نہ بنتے۔ ملکی نقصان ہونے سے پہلے انجام کو پنہچ جاتے

حیرانی کی بات یہ ہے لوگ اس بات کا دفاع کرتے ہیں جب شحصیت پرستی اس انتہا پر ہو کے غلطی کا دفاع کیا جائے تو ان میں اور پرانی حکومت میں کیا فرق ہے پنجاب میں آنے والے سیاسی نظام میں پی ٹی آئی اس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا کیونکہ اقتدار کا فیصلہ پنجاب کرتا ہے

قبال ٹاؤن میں مون مارکیٹ کا چوک چاروں اطراف سے بند ہے اسکیم موڑ سے سیدھا شیخ زید جانے والی ٹریفک مارکیٹ کے بعد چوک سے بائیں طرف مڑ ے گی پھر فلٹر سے دائیں طرف جائے گی جبکہ شیخ زید کی طرف سے آنے والی ٹریفک بھی پہلے لیفٹ کھاڑک کی طرف مڑے گی پھر فلٹر دائیں ہو کر سیدھی جائے گی۔ – بتائیں یہ کونسا نظام ہے ؟

ایجنسیوں کے پاس جو بھی معلومات ہوں یقینا اسرائیل میں کاروبار کرنے والوں سے لے کر معاشی دہشت گردوں اور قاتلوں سے بڑھ کر معلومات نہیں ہونگی، جس دن ایجنسیوں نے ان پر ہاتھ ڈالا اس دن اگر بزدار بھی “جھونگے” میں پھانسی لگ گیا تو کوئی غم نہیں ہوگا

کپتان نے حکومتی اننگز کا آغاز ہی غلط بندے کو لگا کر کیا، تب ہی معلوم پڑ گیا تھا کے بیل منڈھے نہیں چڑھنے لگی- قابلیت، معیار اور اہلیت بھی کوئی چیز ہوتی ھے! آج عوام بھٹو، ضیا الحق، بینظیر، نوازشریف، مشرف اور زرداری کو کوستے ہی ہیں، سو خان کو بھی کوسیں گے

آپ کو یاد ہو گا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا فیصلہ کتنی تاخیر سے ہوا تھا۔ ہم سمجھتے رہےکہ بہترین بندے کے انتخاب کے لۓ مشاورت کا عمل جاری ہے ۔۔۔۔۔ لیکن – وہ بیچارا تو معصوم سا بندہ جو بات تک نہیں کر سکتا اُن کو گرفتار کرنے سے ایجنسیوں کو فائدہ نہیں بلکہ بد دعا کی شکل میں نقصان ہی ہو گا

Categories
Politics

فکری بد دیانتی

اسے فکری بد دیانتی کے علاوہ کیا کہاجائے؟

ن لیگ کے دور میں ہر روز 7بجے سے رات 11بجے تک ہر چینل پر ن لیگ اور نوازشریف کی کردارکشی ہوتی رہی، کوئی ایک چینل بند نہیں ہوا، کسی صحافی پر بین نہیں لگا.
پانامہ کیس پر 500 سے زیادہ پروگرام ہوئے اورہر پروگرام کا تجزیہ نگار بذات خود جج ہوتاتھا

پیپلز پارٹی کا دور بہت بہتر تھا۔ ن لیگ کی حکومت میں اس پر تنقید چھپنا بہت مشکل کام تھا، اس نے میڈیا کو “مینیج” کیا ہوا تھا۔ اس کٹھ پتلی نے تو میڈیا کا گلہ ہی دبا دیا۔شکر ہے سوشل میڈیا اور آن لائن کی سہولت آ گئی اگرچہ اس پر بھی ڈریکونین قوانین اور ٹرال آرمی فارمز کا مسئلہ رہتا ہے۔

امید کرتے ہیں کہ اب اس فکری کیڑے کو سکون ہو گا جس کو نون دور مشکل لگتا تھا اب جو آزادی ملی ہے یاد رکھیئے کہ اس میں آپ کے قلم کی سیاہی بھی شامل ہے اور اپنے پیر و مرشدین کو دیکھ لے معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں اب

ھاھاھا ن لیگ کی دور میں تین سو بندوں کا ایک سو چھبیس دن کا دھرنا روز ٹی وی پر چلتا تھا
کسی ایک تنقیدی اینکر کا پروگرام بند ہوا ہو تو بتا دیں؟؟ – جب دیکھو ہر چینل ہر حکومت کو ہر کام میں تنقید کا سامنا تھا

ہارون الرشید حسن نثار ایاز امیر اور ان جیسوں کی لمبی فہرست ہے جو جملہ معترضہ کے طور پر ہر ناکردنی ن لیگ کے کھاتے میں ڈال کر موجودہ نااہل حکمرانوں کے اقتدار میں لانے کا باعث بنے تھے بہت سوں نے معافی بھی مانگ لی ہے آپ سے بھی گزارش ہے کہ مفروضوں کو حقائق بنا کر پیش نہ کریں

ن لیگ کے دور میں مسلسل 5 سال ایک آدھ چینل کو چھوڑ کر باقی سب نے 23 گھنٹے ن لیگ کی کردار کشی کی. کوئی ایک چینل بھی بند ہوا؟ کتنے صحافیوں کی نوکریاں گئیں؟ چینلز پر پتھراؤ بھی پی ٹی آئی کی طرف سے کیا گیا.

حضور سچ ہے انسان کی فکر میں کہیں نہ کہیں تعصب دبا رہتا ہے – جناب آپ PMLnپانچ سال کا ریکارڈ نکال کے دیکھیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ حکومت کے خلاف کتنے کالم لکھے گئے یا کتنے پروگرام کیا گیے، اور کتنے کالم یا پروگرام سنسر ہوئے اور کتنے ٹی وی اینکرز کی جاب ختم ہوئی، جب ڈنڈا آتا ہے تو آپ لوگوں سے بولا بھی نہیں جاتا، وڈے فلاسفر

ن لیگ کے دور میں میڈیا بہت آزاد تھا اور کئی چینل اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت پر جھوٹی تنقید میں مصروف رہتے تھے – یوتھیا سچ میں بھی جھوٹ کی غلاظت کی ملاوٹ کرکے بولے گا، ان منافقوں کا ایمان ہی ن لیگ کے خلاف بہتان بازی اور نیازی کے قصیدے پڑھنا ہے

Categories
Politics

ضیاالحق کا بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنا

انچ جولائی کو ایک فوجی آمر نے ایک جمہوری آمر کا تختہ الٹا ۔اس جمہوری آمر کا جس نے بلوچ قیادت کو جیل میں رکھا ۔ جو سیاسی مخالفت برداشت نہیں کرتا تھا ۔ جس نے پاکستان کو ایک ایسا آئین دیا جس کی تعریف انصار عباسی جیسے لوگ آج بھی کرتے ہیں ۔ وہ کبھی بھی جمہوری نہیں تھا

سوال یہ ہے کہ آج کے دن اس واقعہ پر بھٹو کو حرف تنقید بنانے کا مقصد کیا ہے؟ – ضیاالحق نے جو پاکستان کے ساتھ کیا اس کی بنیاد بھٹو نے فراہم کی تھی ۔ آئین پڑھ لیں

ایک فوجی آمر نے ایک جمہوری آمر کا تختہ الٹا. یعنی دونوں ایک طرح کے لوگ تھے لہذا ہمیں اس واقعے کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں؟ – قذافی ، صدام حسین ، بھٹو ، سبھی ایک کیٹگری کے مالک تھے ،
لیڈرشپ کی خصوصیات تھیں ، فیصلےکی ظاقت بھی ،لیکن واقعی وہ جمہوری نہیں بلک اسٹالن طرزکے ڈکٹیٹر

ہیں جناب ایسا نہیں ہے پی پی کی حکومت آئینی اور قانونی حکومت تھی، ضیاالحق کا مارشل لاء غیر آئینی، غیر قانونی اور بلاجواز تھا.

بھٹو نے (آپ نے لفظ استعمال کیا ہے جمہوری آمر کا) اگر تمام بلوچ قیادت کو جیل میں رکھا اور سیاسی مخالفت برداشت نہیں کی، تو کیا ضیاالحق کا مارشل لاء جائز ہو گیا؟

ھٹو نے ایسا آئین دیا جس کی تعریف انصار عباسی جیسے لوگ بھی کرتے ہیں. تو عرض یہ ہے کہ اگر انصار عباسی جیسے لوگ اپنے مطلب کی چند شقیں اپنی منافقت کے لئے استعمال کرتے ہیں (اور اگر وہ غلط بھی ہوں) تو کیا ضیاالحق کو یہ حق مل گیا کہ وہ پورا آئین پھاڑ کے کچرے میں پھینک دے؟

ان لوگوں کا کیا جائے جو ہمیں مارشل لاء کی حمایت اور سویلین حکومتوں کی توڑ پھوڑ اور برطرفی کو اسی طرح کے جوازات پیش کرکے اسٹیبلشمنٹ کے اقدامات کو اخلاقی طور پر جائز قرار دیتے ہیں. جیسا کہ بھٹو جمہوری آمر تھا، بیظیر کرپٹ تھی، زرداری اور نواز شریف چور ڈاکو ہیں. جو بھی ہو مارشل لا کا جواز نہیں تھا

سطائیت کو ختم کرنے کا راستہ خود فراہم کیا تھا بھٹو نے ضیاالحق خود بخود نہیں تھا آیا ڈھانچہ ہی ایسا تشکیل دے دیا گیا تھا کہ ضیا کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو آتا – ویسے پختون قیادت بھی ساری جیل ہی میں تھی۔ – اسی طرح 12 اکتوبر 1999 کو فوجی آمر نے سرکاری جمہوری آمر کو برترف کیا

انچ جولائی ۱۹۷۷کی بنیاد بھٹو صاحب کی حلف برداری بطور صدر والے دن ہی رکھ دی گئی تھی اور مہر لگی جنرل گل حسن کے استعفے والے دن۔
آرمی اتنی کمزور نہیں تھی جتنا ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ کو عوام نےسمجھا تھا۔ سرنڈر پلان کے مطابق ہوا اور ۱۹۷۴ کی اینٹی احمدیہ تحریک بھی۔

ور ۱۹۷۱ کی شکست کو اسلام سے دوری کا نتیجہ اور شراب و شباب کا شاخسانہ قرار دینا۔ عرب کی اسرائیل کے خلاف ہار اور پاک آرمی کا پورے اسلامی بلاک کو لیڈ اور کنٹرول کرنا جنرلز کی خواہش اور رکاوٹ کو دور کر دیا۔ شائید صرف بھٹو فیملی کا ۱۹۷۷ میں قتل عام نا ہونا پلان سے ہٹ کر تھا۔

سوشلزم ہماری معیشت ہے، طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ، ایک سال میں سب بدل دیا، اسلامی سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سر چشمہ اللہ تعالی کی ذات ٹہرا، چن چن کے سب سوشلسٹ اندر کیئے، انجام کار پھانسی کی سزا کوئی نہ بچا سکا

ی ہے کھرا سچ – یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں اُسی طرح چُھپے ہوے ہیں جس طرح اور بہت سے سچ ۔

Categories
Politics

پی ٹی آئی وزیر کا وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے ن لیگ سے رابطہ

اگر عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو پی ٹی آئی کے کئی ارکان قومی اسمبلی بھی اس کی حمایت کریں گے، پی ٹی آئی کے اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ – ایوان میں تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے 12؍ سے زائد ارکان اسمبلی تیار ہیں۔

اتحادی جماعت بی این پی مینگل نے پہلے ہی حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے تو دوسری طرف ق لیگ والوں کا سیاسی موڈ بھی پی ٹی آئی حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ – جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹوایا اور جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہد محمود قریشی کی آپسی لڑائی کی وجہ سے پارٹی کو زیادہ نقصان ہوا ہے۔

کچھ وزراء وہ کام کر رہے ہیں جو اپوزیشن والے بھی نہیں کر پائے۔ – کوئی بات نہیں فکر کی کیونکہ میرے علاوہ کوئی چوائس نہیں اسی لئے تو ڈٹ کرکھڑا ہے کفتان ۔ – خبریں تو کافی دنوں سے گردش میں ہیں

اپوزیشن اس ٹریپ میں نہیں آئے گی سب کا مقصد اس نکمی نااہل حکومت کو زلیل ورسوا کرنا ہے ان کی ناکامیوں کرپشن چوریاں ایکسپوز کرنا ہے وزیر مشیر خود ہی ایکسپوز ہورہے ہیں – یہ وفاقی وزیر فواد چودھری ہیں

اپوزیشن کی تو منتین بھی کی جارہی ہیں کہ ختم کرواسکو۔ لیکن اپوزیشن اس دفعہ صحیح راستے پر ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ وہ مزید ایک پیج پر رہیں۔ – یہ کیا ھو رھا ھے؟ اس کا مطلب تبدیلی آ نہیں رھی بلکہ تبدیلی آچکی ھے

Categories
Politics

گندی تبدیلی

کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ وہ میڈیا پرسنز جو اس گندی تبدیلی کےلئے آخری حدوں تک گئے، اعتراف جرم کرکے اللہ اور قوم سے معافی مانگیں۔ غلطی کااعتراف بڑےپن کی نشانی ہوتی ہے جبکہ چھوٹے لوگ غلطی کے لئے جواز ڈھونڈتے ہیں۔ بے شک اپنے اوپر لعنت نہ بھیجیں لیکن اعتراف جرم تو کرلیں۔

چینل 24 کی انتظامیہ چینل بند کرنے کا سوچ رہی ہے جنگ گروپ کے مالک کو بے بنیاد الزام میں قید کیا ہوا ہے یہ جو ہوا چلی ہے اس میں عافیت کسی کی نہیں ہو گی حتی کہ مسخروں کا کردار ادا کرنے والے اینکرز بھی نہیں بچیں گے ڈھٹائی کا یہ عالم کہ کئی تھپڑوں کے بعد بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں

ن سب کو مبارکباد جو ان کو لانے کے لئے پاگل ہوئے جا رہے تھے اب اس تبدیلی کا گندہ چہرہ دیکھ لیا ہے سب مگر اب بھی میڈیا والے ان سے بے وفائی نہیں کرے گے اور وہ بھی جانتے ہیں اگے سے کوئی بولتا نہیں تو وہ جو مرضی ہے کرے

یہ معافی مانگیں بھی تو جو کچھ ان چند چینلز نے اس ملک اور قوم کیساتھ کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے جو گھناؤنا کردار چند ٹکوں کی خاطر یا دباؤ کےتحت ان چینلز نے ادا کیا ہے وہ اس قوم و ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

سر کیا وجہ ھے اگر پچھلی حکومت میں ایسا ہوتا تو آک طوفان أ جاتا۔ اب کیا بدمعاشی ھے موجودہ گورنمنٹ کے پاس کے نا کوئی عدالت نوٹس لیتی ھے نا کوئی اور ادارۂ نا ہی عوام کوئی احتجاج کرتی ھے

یری رائے میں ھر چھوٹے بڑے شہر میں ایک مقام توبہ کا تعین کیا جائے جہاں پہ تمام پی ٹی ائی سے دھوکہ کھانے اور لوگوں کو اس دھوکے کی طرف دھکیلنے والے اجتماعی صلواتہ توبہ کا کئی ھفتے احتمام کریں اور جمہوریت کی مظبوطی کا عزم کریں جو اصل میں پاکستان کا راہ نجات ھے۔۔میں بھی جاھل تھا بیشک

#خلائی_مخلوق کی نام نہادفلاحی مُملِکت #ریاستِ_مدینہ کی #بیشرم_تبدیلی کو مُسلّط کروانےمیں مُلاں طارق جمیل بھی شریکِ سفرتھے، لہٰذا*نیک تمنّاؤں میں ایسے #WrongNumber کوضرور یاد رکھئیے گا۔

میں یہ گندی تبدیلی منظور ہے اس گندے نظام کے بدلے جس گندے نظام میں تم جیسے گندے لوگ پیدا ہوئے اور اپنے گندے مقاصد کھلے عام پورے کرتے رہے اور ایک مقدس سر زمین پاکستان کو گندا کرنے کی کوشش کرتے رہے

کیا اب بھی وہ وقت نہیں ایا جب صحافت میں بھی کتا مار مہم کا آغاز کیا جائے۔ بہت کثرت ھو گئی ہے۔

نتہائ افسوس ناک۔بات ہے ۔موجودہ ۔وبائ۔اور افت۔کے دور میں ۔بروزگاری۔میں،اضافہ۔۔بہت ہی غیر،مناسب ہے۔بہتر۔ہے برداشت ۔حوصلہ سے کام لیا جاے،اسے انا۔کا مسئلہ نہ بنایا،جاے۔اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں سچ کی توفیق عطا فرمائے

چلی ھے رسم کہ کوئ نہ سر اٹھا کے چلے۔

Categories
Politics

Comparison of Benazir Bhutto and Imran Khan

It’s funny how Imran Khan refers to Benazir as “beychari” and “meri classfellow” now. When she was alive he even blamed her for the attack on her convoy in Oct ‘07 that predated her assassination in Dec ‘07. What Benazir used to say about him was always spot on though.

I recall when a journalist asked Benazir (circa 95/96), “Mr Imran Khan says u are very corrupt. How do u respond?” She said, “Look what Imran Khan has done for money. He’s married a little girl just because her father is a billionaire.”

When late slain Benazir Bhutto was alive, we got settled for two party system. Imran Khan was nowhere to be seen. He even didn’t win his seat. He got this status of second popular leader only because of the space created by BB’s demise. I hate to compare him with BB who was a renowned & established states-person of international repute.

The truth is that you cannot compare the stature of Benazir Bhutto with the pygmy Imran Khan, who is nobody but just a puppet. There simply is no comparison of great MSBB with mediocre IK. IK is ahead of everyone in mediocrity.

Imran Khan tries to take credit for building Shaukat Khanum hospital but the truth is that the land for it was given by Nawaz Sharif and Punjab government built most of it. Another folly is Namal university which is a mediocre university.

SZAB university is in top 30 in Asia not 200? Would you or IK send his kids to Namal? IK is mediocre with average intelligence who can easily be manipulated through astrological charms and tricks. He is a total and and he will be a total failure.

It’s high time that Pakistani people recognize what the true leader is and start to cherish them. Democracy, grass root political leadership, and the established leaders are rare and they don’t come every day. We already have missed a lot.

Categories
Politics

Thread on Karachi

Right-wing, elite, liberals and Sindhis; they all are one against the immigrants in Karachi. Its the same script everywhere, which is why dismantling it is necessary. And ideologically dismantling it is necessary to prove that civilians don’t deserve to be profiled, brutalized, picked up or face curfew simply because they come from the wrong income bracket or neighborhood, because that’s who this LEA violence primarily affects. And what people need to understand is that Rangers have occupied land that isn’t theirs in Karachi, they’ve seized land on Karachi University a literal educational campus and they don’t just harass muhajirs but Baloch, Sindhi, Saraiki, Pashtun, working Punjabis as well.

The script is always the same. If they’re muhajir, they’re a militant with MQM. If they’re Pashtun, they’re terrorists. If they’re Baloch, they’re gangsters. If they’re Bihari, Bengali, or Afghan, they’re illegal, not Pakistani at all. This construction of a violent figure, often attached to ethnicity, who needs to be violently policed and contained provides the impetus for occupying neighborhoods, imposing curfew, harassing civilians, profiling/arresting people and extrajudicially murdering them.

I’ve said this before, I’ll say it again. The day I realized Karachi was militarily controlled was when I saw firsthand in Lahore how soldiers in jeeps kept the ends of their guns inside. In Karachi, the guns are pointing out cuz the city is seen as a foreign, hostile territory. That is to be contained, controlled, profited from, sold off and occupied. The attitude of LEAs in Orangi or North Karachi or Federal B Area is not so different than in Lyari or Kati Pahari or Malir which is not so different from FATA or Balochistan.

I am not going to throw personal stories in here but bcuz they might be pertinent: my Saraiki family faced both brutal discrimination from MQM and profiling from LEAs, a jaaney waaley who is Sindhi faced police violence while at NED University. And both student activists and anyone who is political in Karachi face violence from Jamaat and right-wingers while also from the state. Universities in Lahore and Islamabad aren’t occupied by a paramilitary which isn’t from the city. This is the privilege of the center.

And while Karachi is rich, wealth isn’t being circled back into the city and everyone knows why. Laurent Gayer explains quite succinctly how ordered disorder in Karachi is a politically engineered condition that benefits major stakeholders – mafia, political parties, and tycoons and of course the federal government. Telling Urdu-speakers who have grown up amidst ethnic violence, curfews and military operations they’re “polishing the boot” isn’t just in poor taste, it’s a false thing to say. Pakistan maybe benefited *some* of us in the 1960s but we don’t fit the national imaginary.

Because at the end of the day our heritage and proximity to India makes the state and even elites see us as Hindustani. And even in the 60s we weren’t polishing Ayub Khan’s boots we were supporting Fatima Jinnah, our voice and political agency has continually been erased. Because ashrafiya isn’t a stand-in for communities within migrant bracket. Our inability and unwillingness to assimilate isn’t a weaponization of our cultural capital – not all of us are from Lucknow – but rather a continual reinforcement of us not being “Pakistani” enough.

In the eyes of the state and which even well-meaning ethnic nationalists and leftists enforce by propagating an outdated and un-representative narrative, which erases the lower + working class. And in the gentrification of the city, this same culture is now under attack. As traditional street food joints are knocked over or bulldozed, bazaars with silk fabric and styles indigenous to the muhajir community are outsourced to capitalism, big designers and wholesale, and the gold jewelers remain vulnerable to the dropping rupee and street crime.

All that said, *some* (not all) activists in center may face LEA crackdown after getting politicized. Many of us never had that luxury, because of our ethnicity or where we lived we faced institutional violence. Even if we weren’t politically involved, we faced state violence. And the wounds of that inter-generational trauma, the degradation of student politics in Karachi, cyclical poverty, lack of opportunities and arrest/imprisonment, the decline of an organized left in biggest city in Pakistan is the consequence of institutionalized state violence.

Where I live in Karachi, Rangers are always out on motorbikes and jeeps with guns. I live near University Road. Whether ideologues accept this or not, Karachi is one of the biggest cities in the world. Sooner or later, the analysis will mature. And I’m looking forward to that day.

Categories
Politics

خائن جج ارشد ملک

نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا، پھر بھی
ہجومِ کش مکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

سمجھتی ہیں مآلِ گل، مگر کیا زورِ فطرت ہے
سحر ہوتے ہی کلیوں کو تبسم آ ہی جاتا ہے

کیا اعلی عدلیہ اپنی جبیں پر لگے داغ کو جج ارشد ملک کی دی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دیکر دھونے کی کوشش نہیں کرے گی ؟ایک خائن جج کے غلط فیصلے کا کفارہ ادا کر کے متاثرین کے دکھوں کا مداوہ کون کرے گا ؟

پہلے دن سے کہتے تھے کہ نوازشریف کی نااہلی، سزائیں سب ایک پلان پیٹرن کے ساتھ ہوا۔ کل ایک سابق سپریم کورٹ کے جج نے پول کھولے تھے تو آج لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو سزا سنانے والے جج کو برطرف کر دیا۔اب احتساب عدالت کے فیصلہ کی کیا اہمیت رہ گئی؟
ایک بار پھر سرخرو ہوا ہے نواز

ویڈیو زدہ جج ارشد ملک کو برطرف کیے جانے کے بعد نوازشریف کو سنائی گئی سزا پر سوال اٹھ گئے. وازشریف کا فیصلہ ری ٹرائل کی طرف نہیں جائے گا سپریم کورٹ نے آرڈر کیا کہ 3ریفرنس دائر کردیں ،میں یہ کب سے کہ رہا ہوں سپریم کورٹ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر

اہورہائیکورٹ کے فیصلے نے احتساب کے عمل کو مزید واضح کردیا، ثابت ہوا کہ سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلے دباؤ کی بنیاد پر کئے گئے تھے،عدالت نوازشریف کے خلاف فیصلوں کو کالعدم قرار دیں – جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی،جج کا دباؤ میں آنا پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے تمام ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حق پر مبنی فیصلہ دیا

جمہوری لوگ سدا جیو آپ لوگ حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے – خلاقی لحاظ سے جج ارشد ملک کے نواز شریف کے بارے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہی، اس فیصلے کا جنازہ نکل چکا ہے، مسلم لیگ ن اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی:

ج ارشد ملک کی برطرفی کےبعد
میاں نواز شریف کی متنازعہ سزا کی کوٸ اخلاقی یا قانونی حیثیت باقی نہیں بچی

تاریخ اور عوام نےاس فیصلہ کو کبھی تسلیم کیا نہ آئیندہ تسلیم کیا جائیگا

یہ جابرانہ فیصلےکالعدم ھوکر رھینگے

قوم کے محسنو ں اور خدمت گاروں کی تضحیک ھماری بدقسمت روایت ھے

رشد ملک اگر بدعنوان شخص بھی ہے لیکن پھر بھی کسی کے سامنے یہ کہنے کی جرت تو کی کہ ان سے زبردستی نوازشریف کے خلاف فیصلہ لیا گیا۔
باقی جن فرشتوں سے نوازشریف کو سزائیں دلوائی گئیں وہ مستقبل میں کتابیں لکھے نگے۔ جب ان کے فیصلوں کے نتائج پوری قوم بھگت چکی ہو۔

شاہد خاقان عباسی جب وزیراعظم تھے تو ایک بات بار بار دہراتے تھے کہ ان عدالتوں سے میاں صاحب کو انصاف نہیں ملے گا لیکن وقت ثابت کرے گا یہ فیصلے غلط ہیں۔عباسی صاحب کی بات سو فیصد درست تھی

جو حق پہ ہے جو سچ پہ ہے

Categories
Politics

بھگوان شری کرشنا مندر اسلامآباد

اسلامآباد میں بننے والے بھگوان شری کرشنا مندر کا ہندو پنچائت کی جانب سے جاری چودیواری کی تعمیر کا کام سی ڈی اے حکام نے بند کروا دیا ھے۔ سی ڈی اے حکام نے کام روکنے کے لیے کوئی تحریری نوٹس نھیں دیا۔

جن سے اسلام آباد میں ایک مندر برداشت نہیں ہوتا، وہ – کہتے ہیں کہ اقلیتوں کو سب سے زیادہ حقوق ہم نے دیئے ہین – افسوس پاکستان میں پاکستانیوں کو اپنے دارالحکومت میں مندر تعمیر نہیں کرنے دیا جا رہا – ہم نے ووٹ اس تبدیلی کیلئے نہیں دی تھی ۔ – مندر یہی بنے گا ہم سب اپنے بھائیوں کیساتھ ہیں

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو حق ہے کہ جہاں انکی آبادی کے لئے ضروری ہو وہ اپنی عبادت گاہ برقرار رکھیں اورپاکستان جیسے ملک میں جو صلح سے بناہے وہ ضرورت کے موقع پر نئی عبادت گاہ بھی بنا سکتے ہیں

اسلام نے خود نے مذہبی آزادی دی ہوئی ہے پھر بھی یہ جذباتی طبقہ باز نہیں آتا۔ – یہ قائد کا پاکستان ہے…اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے

بلکل پاکستان اقلیتوں کےلئے گلدستہ ہے – مگر قانون بھی سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔۔ بھارت کی طرح کچھ گرایا نہیں گیا۔۔ منظوری تک روکا گیا ہے۔۔ ایسے معاملے کو ہوا دینے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو ہر شہری کے ہیں

نقشہ پاس کروا لیجیئے۔۔ کام دوبارہ شروع کر لیں۔۔مندر کی تعمیر سے آپ کو روکا نہیں گیا۔۔ قوائد کے تحت کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے

افسوس، جب تمام غیر مسلموں سے انکم ٹیکس سمیت تمام ٹیکس اسی پاکستان کے پیسوں میں جمع ہو رہے ہیں تو مندر بھی تو اسی پیسے سے بن رہا ہے نہ کے کسی کے زاتی پیسوں سے تو پھر کسی کو تکلیف بھی نہیں ہونی چاہیے ۔۔

اگر پاکستانیوں کے مندر کی تعمیر میں کسی مُلا، افسر شاہی، سیاست دان یا اوریا مقبول جان جیسے شیطان نے رکاوٹ ڈالی تو اس مُلک کے لاکھوں باشعور اپنے پاکستانی ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر سڑکوں پر آئے گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مندر بن کر رہے گا۔

آپ نے تو خام خاہ اس گدھے راجے سےأمید لگا رکھی تھی جوپارلیمینٹ میں کھڑےہوکر أسامہ کوشہید کا درجہ دیتاہےوہ کیسے ایک مندر تعمیر کرنےدیگا؟یقین جانیے یہ فتوی بھی اس عمرانڈو نے جاری کروایا ہے تاکہ اسکو مندرتعمیرنہ کرنےکاجوازمل سکے۔

دین کو خطرہ مندر سے نہیں یہ تو پہچان ہے کافروں کی
دین کو خطرہ شراب خانے سے ہے جہاں لائن میں لگے ہیں مسلمان بھی

Exit mobile version