Cow Mandi 2020 Karachi

That time of year is here again and the city government of Karachi has made some good arrangements this time. They have not only allocated specific places for cow mandi 2020 Karachi, they have also appointed officials for cleanup of the stuff.

Following is the list of bakra mandi 2020 Karachi:

  • Bakra Mandi, Mewa Shah Qabristan Dhoraji Wing
  • Malir Mandi, Cattle Market
  • Ali Mamu Cow Mandi, Korangi near animal shelter
    Gulbai bakra and gai mandi
  • Qyyumabad Bakra Mandi
  • Karachi Cow Market, Hyderabad Motorway، Sector 21 B Gulzar E Hijri Scheme 33, Karachi, Karachi City, Sindh, Pakistan
  • Khalq Cattle Farm, Gadap Town, Karachi, Karachi City, Sindh, Pakistan
  • Landhi Maweshi Mandi, Naval Land Landhi Town, Karachi, Karachi City
  • Essa Nagri, Clifton, DHA bakra mandi

From interior Sindh, south Punjab and even from Punjab and KP; the sacrificial animals land in Karachi on trucks after trucks. When they enter Karachi, they have already paid lots of freight and tolls plus bribes to the traffic police and other officials and that is why the prices are so high when these animals reach to the buyers. So next time when you whinge and complain about high prices of your cow and lambs, remember this thread.

Seeing me filming the Mandi, this driver requested to highlight the plight of truckers taking sacrificial animals to the Karachi cattle market from different parts of the country, alleging Sindh police in Sukkar and Hyderabad take a bribe of up to Rs10k from a truck. Now just figure out that these poor people and sellers pay to police, and all their expenses while they stay in city, so what exactly they save and earn?


Thari Mirwah Khairpur Scandal High School Teacher

Arrest Sarang Shar is the voice of Sindh and Pakistan right now. This satanic human, the retired high school teacher has committed a heinous crime and must be apprehended by authorities and given an exemplary punishment. Thair Mirwah Khairpur scandal high school teacher is a wake up call for the whole nation.

This heinous crime took place in Thari Mirwah, Khairpur where a retired High school teacher committed this crime. Someone recorded the video and made it viral, FIR lodged but no arrest yet.

Sindh government doesn’t consist of political people and officials but criminals and corrupt mafias. That’s why I demanded army chief after COVID-19 to immediately enforce Governer Raj in Sindh to avoid innocent people from these corrupt gangas because neither they have capacity nor capabilities nor intentions to deliver. This is again a test case and I don’t have any hope from this PPP.

Some people are asking Bilawal to take action, and I am shocked that that you still have hopes from a morally and financially corrupt family. When they aren’t clear that they are Bhutto or Zardari and you are asking them for good governance. Bhai, this family is a curse on Sindh. @BBhuttoZardari doesnt care, cant fix the province but have all the time in world to criticise government.

Can someone tag sarim burney trust. May be they can do something here. My heart just sank seeing this. What this innocent child must be going through and who knows how many times. How do we protect our children from these pedophiles. Can someone help this child? The culprit should give the severe punishment and make example for the other peoples. Most urgent action is require without delay.

This tells us everything which is wrong in our society! A teacher who is supposed to be the guardian raping a young kid – this person is sick to the core & don’t deserve to live & not fit to live with anyone including his own kids. I am against death penalty but he deserves it. I don’t have words to express my shock and sadness and my heart is broken and mind is numb and I cannot think straight.

Somebody has to take action here.



سول آمریت بالمقابل فوجی آمریت

فوجی بغاوت کامیاب ہوتی تو ترکی آمریت میں تبدیل ہو جاتا مگر بغاوت کی ناکامی پر بھی مضبوط جمہوریہ بننے کی بجائے آمریت میں تبدیل ہو گیا۔ ایردوآن نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور دستور بدل کر خود طاقت کا سرچشمہ بننےکے ساتھ ساتھ اسے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔

ہ بات بھی واضح ہو کہ فوجی بغاوت کو ناکام ترک عوام نے بنایا تھا فقط ایردوآن کے حامیوں نے نہیں۔ اس بغاوت کی ناکامی کے بعد پہلا جلسہ تمام جماعتوں نے مل کر کیا تھا۔ تاہم پھر ایردوآن نے اپنے ہر ناقد اور سیاسی حریف کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ ملکی عدلیہ اور میڈیا تباہ کیا اور آمر بن گئے۔

جو حکمران بھی حکومت حاصل کرنے یا چلانے کیلیے مذہبی یا فوجی کارڈ استعمال کرتا ہے وہ ریاست کیلیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ہٹلر ، ضیاالحق ، مودی ، طیب اردوان ، عمران خان

ترکی جانے انکی عوام جانے ۔ہمیں کیا ۔ایک عرب رونے کے لئے کیا کم تھے جو اب پاکستانیوں کو ترک بھی مل گئے ۔ستر سال انڈین ۔امریکن ۔برٹش ۔چائنا ۔جرمن ۔فارسی ۔وغیرہ وغیرہ ۔سنیما تھیٹر دیکھتے رہے تو کوئ مسئلہ نہیں تھا ۔ترک ڈرامے کیا آگئے ۔لوگ بلاوجہ غصہ ہونے لگے ۔عجیب نہیں ہے ویسے ؟

کمال مصطفی اتاترک کے سیکیولر ترکی سے لاکھ درجے بہتر خلافت عثمانیہ کا ترکی تھا. چاہے اس میں جتنی بھی خامیاں ہوں چاہے اس میں ملوکیت کی بو آتی ہو. کچھ سیکیولر سوچ کے لوگوں کو یہ طیب کے فیصلے ہضم نہیں ہورہے – ہر مسئلے کا حل جمہوریت نہیں ہے۔جو جمہوریت یورپ میں ہے وہ اس لیے کامیاب ہے کیونکہ وہاں کی جمہور کو اپنے اچھے برے کی تمیز ہے اور ادھر کی جمہور ابھی انسانی ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہے۔

ترکی کی عوام اردگان کے رویئے اور اس کی آمرانہ سوچ سے خوش ترکی اس کی قیادت میں مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن۔ – مگر کچھ لباڑرڈ برگیڈ کو موشن ایسے لگے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ – فوجی بغاوت کو صرف جذبہ ایمانی نے اور اسلام۔کی محبت نے ناکام بنایا اردگان جو کررہا ہے وہ بلکل ٹھیک کررہا ہے اس نے ترکی کو ایک معاشی طاقت بنادیا دنیا میں ترکی کا کھویا ہوا وقار بحال کروایا اب تمہارے جیسے ملحد جو خود یورپ میں سیاسی پناہ کی بھیک مانگ رہے ہے انکے لئے اردگان اچھا نہیں

کوئی سسٹم بُرا نہیں ہوتا اسکے چلانے والے اگر نیک نیت اور قوم سے محبت کرنے والے ہوں تو وہ ہرسسٹم کو بخیروخوبی چلا کر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں اورایک سسٹم کے پیچھے کرپٹ لوگ ہیں تو اچھے خاصے سسٹم کو تباہ کر دیں گے، طیب اردوان نے ترکی کو ترقی دی یہ بات سب باتوں پر بھاری ہے،

آمریت اور جمہوریت کو چھوڑیں ترک بحیثیت قوم آزاد اور خودمختار ہوچکے ہیں۔ – کوٸی روس کا لڑاکا طیارہ گراسکتا ہے جو انکے سرحدمیں بغیر اجازت کے اندر آٸی ہو۔


مفتی منیب نے ایدھی صاحب کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کی وجہ بتا دی

مفتی منیب نے ایدھی صاحب کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کی وجہ بتا دی

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ھوئے مفتی منیب الرحمن صاحب نے کہا کہ مجھ سے ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے رابطہ کیا تھا جنازہ کیلیئے مگر میں نے انکار کر دیا ۔

وجہ یہ تھی کہ ایدھی ایک ملحد اور منکرحدیث پرویزی فرقہ سے منسلک تھے ۔ اور ایدھی نے بارھا اسلامی شعائر حج ؛ روزہ اور قربانی کے بارے توھین آمیز جملے بولے ۔ قادیانیوں سے ایوارڈ لینا اور انکے بارے نرم اور رحمدل جذبات رکھنا ایدھی صب کو تمام امت مسلمہ کی نظروں سے گرا چکا ھے ۔

باقی یہ کہ ننگوں کو کپڑے پھنانا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا اور دیگر تمام خدمت خلق کے اعمال اچھے ضرور ھیں مگر ملحد کو آخرت میں اس سے کچھ نہیں ملے گا ۔ بہرحال میں جنازہ نہیں پڑھا سکتا میرے نبی کی محبت مجھے روکتی ھے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کے ظلم نبی مکرم ص جو رحمت العلمین تھے ان کا نام لے کے کرتے ہیں، جو کہ سراسر آپٌ کی تعلیم اور شریعت کے منافی ہے۰اللہ تعالیٰ مرحوم ایدھی صاحب کو غریق رحمت کرے، آمین۰

فتی منیب جھوٹ بولتے ہیں۔ ایدھی کا کام انسانیت کی خدمت تھا اور وہ وہی کرتے تھے۔ وہ سیدھے سادے انسان تھے پڑھے لکھے نہ تھے۔ – پڑھے لکھے مذہبی روادار انسان تھے – نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار نہیں کیا تھا

یہ مولانا کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایدھی صاحب کو آخرت میں خدمت خلق کا اجر نہیں ملے گا – مفتی منیب کو کس نے گارنٹی دی ہے۔ ؟ ایدھی کے بیٹے نے ایسے شخص سے رابطہ ہی کیوں کیا۔ کسی سادہ سے مولوی سے جنازہ پڑھوا لیتے۔ ان کو بھی بڑے ناموں کی ضرورت کیوں پڑی۔

یہ مفتی اگر ساری زندگی سر کے بل بھی کھڑا رہے تو اس کو وہ عزت نہیں مل سکتی جو اللہ نے ایدھی کو عطا کی تھی۔ – بلا تصدیق ایدھی صاحب جیسی ہستی جو اب اس دنیا میں نہیں ایسی بات کرنا مناسب نہیں ۔ مفتی صاحب نے ایسی بات ایدھی صاحب کے جانے کے بعد اول تو کی نہیں ہوگی اور اگر ایسا ہے تو —-

جو اسلام اور سیرت میں نے پڑھی ہے اس کے مطابق تو کسی کے ایمان کا فیصلہ آپ کر ہی نہیں سکتے۔ اور مولا علی کی مثال سامنے ہے کہ انہوں نے خارجیوں کو قتل بھی کیا اور ان کے جنازے بھی پڑھائے ۔ -آجکل کے سارے مفتی اور مولانا مل کر بھی ایدھی جیسے نہیں ہوسکتے، اگر کوئی جنت ہوگی تو وہاں کا سب سے اعلی بندہ ایدھی ہی ہوگا۔

اب مجھے پتہ چلا کہ ایدھی صاحب اتنے اچھے انسان کیوں تھے۔ اس لئے کہ وہ مفتی منیب جیسے نہیں تھے۔ – ایدھی کے پاؤں کی دھول پاکستان میں بیٹھے تمام حلوہ خوروں سے ہزار درجے بہتر ہے – ہر کسی کو بدلا اس کے اصلاحی اور فلاحی کاموں کے مطابق ملے گا


راولپنڈی میں دو لڑکیوں کی ’شادی‘

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں دو لڑکیوں کی آپس میں ’شادی‘ کا انکشاف ہوا ہے اور عدالت نے دونوں لڑکیوں کو 15 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس صداقت علی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا سنگل بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

راولپنڈی کے رہائشی امجد شاہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی 20 سالہ بیٹی جو کہ ایک مقامی پرائیویٹ سکول میں پڑھتی تھی، وہاں پر اس کے تعلقات ایک اور خاتون ٹیچر کے ساتھ ہوگئے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جس لڑکی کے ساتھ اس کی بیٹی کے تعلقات قائم ہوئے تھے وہ بھی اس کے گھر کے پاس ہی رہتی تھی اور اُس لڑکی نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس نجی سکول میں بطور استاد نوکری کی تھی۔

درخواست گزار کے مطابق جب اسے معلوم ہوا کہ ان دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات ہیں تو اُنھوں نے اپنی بیٹی کو سکول جانے سے روک دیا لیکن اس کے باوجود بھی ان دونوں کے آپس میں تعلقات رہے۔

درخواست گزار کے مطابق دوسری لڑکی نے جعلسازی کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ میں خود کو لڑکا ظاہر کیا اور کچھ دنوں کے بعد دونوں گھر سے بھاگ گئے اور کورٹ میرج کرلی۔

درخواست گزار کے مطابق راولپنڈی کی مقامی عدالت نے بھی حقائق کو دیکھے بغیر ان کو میرج سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔

اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب درخواست گزار کو اس بات کا علم ہوا تو اُنھوں نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں کہا لیکن ان کی درخواست پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذہب اسلام میں ہم جنسوں کے درمیان شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس طرح کے تعلقات نہ صرف مذہب بلکہ پاکستانی معاشرتی روایات کے بھی خلاف ہے۔

اس پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت لاہور ایڈشنل سیشن جج کی عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے میرج سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرے بلکہ اس کی بیٹی کو ورغلانے اور شناختی کارڈ میں خود کو لڑکا ظاہر کرنے پر جلعسازی کا ارتکاب کرنے والی لڑکی کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ان کے موکل کی بیٹی سے جس لڑکی نے ’شادی‘ کی ہے، اس سے جب رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ اس نے اپنی جنس تبدیل کروائی ہے جبکہ درخواست گزار کے بقول پاکستان میں جنس کی تبدیلی ناممکن بھی ہے اور غیر شرعی بھی ہے۔

عدالت نے مقامی پولیس کو پابند کیا ہے کہ وہ دونوں لڑکیوں کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کریں۔

’آئین پاکستان میں جنس تبدیلی کا قانون نہیں ہے‘

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین میں جنسی کی تبدیلی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ قانونی ماہر راجہ امجد محمود جنجوعہ، جو اس درخواست کی پیروی کرر ہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے دونوں لڑکیوں کے درمیان شادی کے خلاف درخواست دائر کرنے کے لیے ملک بھر کے ماہر سرجنز سے رابطہ کیا اور ان سے اس بارے میں رائے بھی لی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی رائے میں جب تک قدرتی طور پر کسی انسان میں مخالف جنس کی علامات ظاہر ہونا شروع نہ ہوں تو اس وقت تک جنس کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔

راجہ امجد کے مطابق ڈاکٹروں کی رائے میں مخالف جنس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اس دوان جنس کی تبدیلی کے حوالے سے چار یا پانچ بڑے آپریشن کرنا پڑتے ہیں اور اس آپریشن کے لیے والدین کی اجازت حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں پر لڑکیوں نے آپریشن کروا کر مردوں کے اعضا لگوائے ہیں تاہم ان اعضا کے آپریشنل ہونے کے بارے میں ان ممالک کے ڈاکٹروں نے بھی کوئی حتمی رائے نہیں دی۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے بدھ کے روز راولپنڈی بینچ میں دو لڑکیوں کے درمیان شادی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالت ان دونوں لڑکیوں کی جنس معلوم کرنے کے لیے ان کا میڈیکل کروائیں اور اگر سرکاری ہسپتال میں اس کی سہولت موجود نہیں ہے تو پھر کسی نجی ہسپتال سے ان کا میڈیکل کروایا جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں شہر کے رہائشی امجد شاہ کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی 20 سالہ بیٹی جو کہ ایک مقامی نجی سکول میں پڑھتی تھی، وہاں پر اس کے تعلقات ایک اور خاتون ٹیچر کے ساتھ ہوگئے۔

درخواست گزار کے مطابق دوسری لڑکی نے جعلسازی کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ میں خود کو لڑکا ظاہر کیا اور کچھ دنوں کے بعد دونوں گھر سے بھاگ گئے اور کورٹ میرج کر لی۔

درخواست گزار کے مطابق راولپنڈی کی مقامی عدالت نے بھی حقائق کو دیکھے بغیر ان کو میرج سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔

یشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک اہلکار کے مطابق جس لڑکی کی جنس تبدیل ہوئی ہے، اُن کے شناختی کارڈ میں جنس کی تبدیلی اسی صورت میں عمل میں لائی گئی جب اُنھوں نے اس حوالے سے تصدیق شدہ میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل راجہ امجد کا کہنا تھا کہ مذکورہ لڑکی کی میٹرک سے لے کر ایم اے کی ڈگریوں تک میں جنس لڑکی ہی لکھی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی ٹریفک پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر جنس تبدیل کروانے والی لڑکی کو جو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا گیا ہے، اس میں بھی جنس کے خانے میں انھیں لڑکی ظاہر کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے بقول مذکورہ لڑکی گذشتہ برس آن لائن ٹیکسی بھی چلاتی رہی ہیں۔

اُنھوں نے بظاہر اُن لڑکی کی جانب سے جنس تبدیلی کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنس کی تبدیلی ایک مہنگا عمل ہے جبکہ ان لڑکی کے والد کی مالی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ وہ اتنا خرچہ برداشت کرسکیں۔

بدھ کے روز اس درخواست کی سماعت کے بعد ان دنوں لڑکیوں کو عدالت کے عقبی دروازے سے نکالا گیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان دونوں لڑکیوں سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت کے باہر لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی اور مقامی پولیس کے بقول ان میں مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ایک تعداد شامل تھی۔

مقامی پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد ان دونوں لڑکیوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس کا اظہار ان دونوں نے پولیس حکام کے سامنے بھی کیا ہے۔

تاہم حکام کی جانب سے ان دونوں لڑکیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی تحریری احکامات سامنے نہیں آئے۔


پاکستانی لڑکی کا نمبر

جب کبھی مرد اپنا نمبر کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر ان کے حوالے کرنے کی کوشش کرتے تو وہ انھیں نظرانداز کر دیتیں۔

روسل کی جب آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں تنہا تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہر کو جاتے نہیں دیکھا۔ ان کی شادی کا دورانیہ کل تین گھنٹے تھا۔

یہ ان کی پہلی شادی نہیں تھی بلکہ دوسری، تیسری یا چوتھی بھی نہیں۔ درحقیقت ان کی اتنی شادیاں ہو چکی ہیں کہ انھیں اس کی صحیح تعداد بھی یاد نہیں۔

روسل کا یہ خوفناک طرزِ زندگی ان کے دفتر میں پیش آنے والے ایک واقعے سے شروع ہوا۔

وہ وہاں شوخ میک اپ کیے چست کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کو آتا اور انتظار کرتا دیکھتیں۔ پھر ادھیڑ عمر افراد آتے اور انھیں ساتھ لے جاتے۔

وہ کہتی ہیں ’وہ اتنی نوجوان اور خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ کوئی بھی لڑکی خود کو ایسے کس طرح بیچ سکتی ہے۔‘

وسل کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ بغداد میں اتنی کم تنخواہ پر گزارہ کرنا بہت مشکل تھا۔

خودمختار رہنے کے عہد کے باوجود روسل اب ایک شوہر کا خواب دیکھنے لگیں۔ ایک ایسا فرد جو ان کا خیال رکھے۔

کاحِ متعہ ایک متنازع مذہبی عمل ہے جسے شیعہ مسلک میں وقتی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں خاتون کو شادی کے لیے رقم دی جاتی ہے۔ سنی اکثریتی ممالک میں نکاحِ المسیار میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

کاحِ متعہ ایک معاہدے کی بنیاد پر ہوتا ہے جس میں شادی کی مدت اور عارضی بیگم کو اس کے عوض دی جانے والی رقم درج ہوتی ہے تاہم یہ معاہدہ زبانی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مولوی کی جانب سے تصدیق ضروری نہیں تاہم عموماً مولوی اس عمل کے لیے موجود ہوتا ہے۔

اس عمل کے بارے میں مسلم علما کی رائے منقسم ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ یہ جسم فروشی کو قانونی شکل دیتا ہے اور اس حوالے سے بھی بحث جاری ہے کہ یہ شادی کس قدر مختصر مدت کی ہو سکتی ہے۔

وسل جانتی تھی کہ وہ اپنی تنخواہ کے بل بوتے پر گزارہ نہیں کر سکتیں اور تعلیم کی کمی کسی بہتر نوکری کی تلاش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ یہ حقیقت کہ وہ اب کنواری نہیں رہیں، ان کے لیے کسی مستقل شوہر کی تلاش میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔


داڑھی کی سازش

اسلام کو کسی بیرونی سازش سے کوئ خطرہ ہی نہیں۔۔ خود ہی کافی ہیں۔ – اس خاتون نے درست بات کی ہے اس میں بُرا ماننے کی کیا بات ہے؟ ڈاڑھی ہمارے پیارے نبی صلَّی اللّٰہ علَیہ وآلہ وسلَّم کی سنت ہے اور سنت کا مزاق اڑانے والا کوئی کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟فواد چوہدری اپنے دماغ کا علاج کروائیں۔ہر معاملے میں آپ نے ٹانگ اڑائی ہوئی ہوتی ہے

یہ جو آپ نے میک اپ کر کے بال کھولے ڈی پی لگائی ہوئی یہ کونسا اسلامی احکامات کے عین مطابق ہے؟

سنت کا مطلب جا کہ دیکھیں محترمہ، کریں تو ثواب نہ کریں تو گناہ نہیں. آپ عورتیں تواپنا حلیہ ہی بگاڑ لیتی ہو اگر کوئی مرد عورتوں کےخلاف قرارداد لےآئےتو آپ سب کو عورتوں کےحقوق یاد آجانے پھر.

دو دن پہلے وزیراعظم نے گندم پر نوٹس لیا، آج کراچی کے فلور ملز مالکان نے آٹے کی فی کلو قیمت میں 6 روپے اضافہ کر دیا۔ خان صاحب خدا کا واسطہ غریبوں پہ رحم کریں، اب مزید کسی چیز کا نوٹس نہ لینا۔

یرے بھائی داڑھی کو جھاڑو کے ساتھ مشابہت نہ دیں برائے کرم
اپنی آخرت خراب نہ کریں
اور ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی داڑھی کے متعلق پڑھ لیں کہ وہ ڈیزائن والی تھی یہ ایک مشت تھی
اور جس شخص کو دین سے یا دین کے احکامات سے تکلیف ہے وہ اسی کا حقدار ہے جو میں عرض کیا

یہ جماعت اسلامی والوں کی داڑھیاں کیا ا
سنت نبوی کے
مطابق کے؟
ایک سینٹی میٹر لمبی داڑھی؟

ین کی تعلیم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور داڑھی رکھنا یہ سنت ہے اور اگر کوئ خط بنواتا ہے یا کوئ ڈیزائن رکھتا ہے تو ایک تو خود انسان کو پتہ ہونا چاہئے کہ کیا غلط ہے اور کیا سہی اور یہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اسے دین کی تعلیم دے.باقی گورنمنٹ کا اس میں کوئ عمل نہیں ہونا چاہئے.

المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ خود تو دین سے بہت دور ہیں اور اج کل کے جو مسائل ہیں ان سے ہم نالاں ہے . اور ماں باپ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں پر ان کی تربیت کی ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں اور پھر یہی بات کہ یہودیوں کی حکومت ہے اور امت کے خلاف سازش ہو رہی ہے.

جب تک کسی معاملے میں معلومات نا ہوں اس پر تبصرہ کرنا جہالت اور اجڈ ہونے کی دلیل ہے

نہو نیں اچھا کام کیا ایک قرار داد اور بھی لائُ جاے جو عورت بن سنور کے اور آدھی ننگی ہو کے بزاروں میں گھومتی ان پے پبندی لگائ جاے دین کے مطابق پردے دارے کے مطابق باہر نکلا جاے اپنے خاوند کے علاوہ بناو سنگار عورت کو جائز ہی نہیں ہے!! مہربانی کریں یہ قرارداد پیش کی جاے!!

محمد رسول اللہ تو برداشت کا سب سے عظیم مینار تھے۔اس نبی نے سب سے پہلے خود پر شریعت نافذ کی پھر دوسروں کو حکم دیئے۔مرد ہو یا عورت پہلے خود پر شریعت نافذ کرے پھر دوسروں کو دیکھے۔ریاست کا کام ہی نہیں مذھبی قانون بنا کر زبردستی کا عنصر شامل کرنا۔قائد نے کہا کہ کسی بھی مذھب سے ریاست


What Matiullah Jan Has Done Now?

Matiullah Jan never ceases to be in the news for all the wrong reasons. He always manages to upset the powerful people in high places. Despite of being thrown out of multiple newspapers, TV channels, magazines, and other organizations, he never stops speaking controversial things. People are asking what Matiullah Jan has done now? and the answer is same as he has been doing from the start of his career.

Irony is journalists & anchors who remain brand ambassador for “Freedom of Speech” are always first to block on twitter, not only when someone abuses them, even when someone correct their misleading stats. Many names of senior journalists and anchors are included in the list, some of whom have been added for being provided flights or accommodation as part of official delegations with government officials such as the former prime minister.

The media situation in Pakistan deteriorated in the context of the controversial election in 2018. When parts of the media cried foul, the security and intelligence machinery sought to silence them. Journalists critical of the army’s interference in politics were told to fall in line or risk losing their jobs. A wide variety of tools and services are available; some are relatively simple (paid likes/followers, etc.), while some are more unusual—some services promise to stuff online polls, while some force site owners to take down stories.

Journalists and members of civil society demanded the SC make public names of the private TV channel received Rs300 million from the information ministry and of all those journalists who allegedly received huge payments from ministry. Geo said the NAB only arrested Rehman because of investigative pieces his channels had conducted into the bureau. Over the past 18 months the NAB has “sent our reporters, producers and editors – directly and indirectly – over a dozen threatening notices,” the statement read, adding that the bureau had said it would shut down” our channels.

This is high time that journalists should do some soul searching and start self-accountability, otherwise courts will keep taking these actions to stop them online and offline. They have a responsibility and they must fulfill it. At the end of 2019, large parts of Pakistan’s mainstream media are faced with the twin challenges of a tight financial squeeze and a crisis of credibility –largely thanks to a government that is hostile to a free media.

I think the liberal media is justified in suppressing conservative opinions. They see everyone from the same eye and they judge everyone on the same scale. They insult people and take pride in it.




لفافہ صحافت ایک لعنت

Corruption has become an integral part of Pakistani journalism and the monopoly corrupt journalists exercise over the profession constitutes a challenge for all media practitioners. Recent years the space for dissent has shrunk further in Pakistan, with the government announcing a crackdown on social networks. To show the effectiveness of these campaigns, our paper includes various case studies that show how various actors would use tools for spreading fake news for their own ends.

Media constitute the fourth pillar of democracy. The role of the media is vital in generating a democratic culture that extends beyond the political system and becomes ingrained in the public consciousness over time. Media being pillar of state must think and rethink about the narrative they put in front of the nation because that’s how public opinion are shaped and formed.

A curse in our society feeding external agendas and spreading negativity and misguiding the nation. A statement, Geo denied the allegations against Rehman, saying all taxes and legal requirements pertaining to the property purchase had been fulfilled. Senior editors of our country fail to catch bias,libel,or fabrication inserted into a story by a reporter. In some cases,the checks&balances were omitted in rush to get an important,’breaking’ news story to press(or on air). Furthermore,in many libel and defamation.

However, there’s a difference between simply posting propaganda and actually turning it into something that the target audience consumes. Biased media reporting is highly in practice by different media houses in Pakistan. When the conscience of the media sells, so the positions of the nations are sold out. One person or a few people receive the price of the whole nation, and where there is no grip system. It is public there, as is happening in Pakistan.

Due to yellow journalism there is low trust in media and journalists and owner on media houses in Pakistan, EJC reported. Other problems in Pakistani journalism include sensationalism and bribery. Lame stream media of Pakistan wants to be fed by govt ,other wise they will propagate fake news and destroy image of PTI government. They want to rob taxpayer money. Pakistan’s rapacious media is not known for ignoring a juicy story, particularly one involving secret government slush funds used to buy political support.

In some cases, the articles are designed to provoke an emotional response and placed on certain sites (“seeded”) in order to entice readers into sharing them widely. The targets of these new regulations would include social networking services. While posts shared on social media is its most visible aspect, there is so much more to fake news than exaggerated article titles on social media feeds.

In other cases, “fake news” articles may be generated and disseminated by “bots” – computer algorithms that are designed to act like people sharing information, but can do so quickly and automatically. Keeping in view the fact that Today’s News is Tomorrow’s history, our media are making wrong history. Journalism has lost its quality and has been replaced by blackmailing media which are willing to do any dirty work for money which may lead to disorder in the society.


Bilawal and David James Gay Scandal

Love is love and Pakistanis must learn to understand that. Everybody’s journey is individual. If you fall in love with a boy, you fall in love with a boy. The fact that many Americans consider it a disease says more about them than it does about homosexuality. Bilawal and David James gay scandal is a hit on social media with photos and videos.

Bilawal Bhutto and his alleged boyfriend David James. Even if its true then what the heck really? What’s the big deal? Why the whole PTI is after Bilawal and why all the troll armies on twitter and facebook are after PPP’s leader? Ok I understand that this is against the religious beliefs of Pakistanis and this is against the social norms and its sort of taboo, but then isn’t it prevalent in Pakistan everywhere?

In itself, homosexuality is as limiting as heterosexuality: the ideal should be to be capable of loving a woman or a man; either, a human being, without feeling fear, restraint, or obligation. When someone ask that how gora David got sindh government contracts? The answer is that its ridiculous. The people of Sindh have well-seen the real face of Farzand e Zardari, according to some PTI leaders.

Who’s David? A JIT should be formed to investigate the relation of David with Bilo Rani. Ata ullah Khan blasted in National Assembly after speech of Abdul Qadir Patel. Now this idiotic debate has reached to National assembly of Pakistan as PTI leaders are demanding and asking who is David and what is he doing in Bilawal house for such a long time. This is the level of debate in Pakistan.

While I have no empirical evidence to back this up, I bet that the number of homosexual people per thousand has not fluctuated all that much over the centuries. I do not believe the dented wisdom my father used to extol. Transsexualism is far less common than homosexuality, and the research is in its infancy. Scattered studies have looked at brain activity, finger size, familial recurrence, and birth order.

I believe that PTI is just hurling mud at Bilawal and his father and they are attacking below the belt in a cheap fashion. You can very well imagine who is behind this smear campaign and what they are trying to do here.

Exit mobile version